تقلید کے بارے میں قرآنی نقطہ نظر
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اكثر لوگوں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کی پیروی کرتے ہیں ہیں جو ان کے قیاس میں مذہبی عقائد کے علم میں زیادہ ہیں ۔ جن لوگوں کی پیروی کی جاتی ہے انہیں عام طور پر اعلیٰ القابات سے نوازا جاتا ہے جیسے مفتی، امام، آیت اللہ، علماء، وغیرہ۔
یہ علماء اکثر دینی معاملات (شریعت) کی کتابیں لکھتے ہیں اور عملی طور پر ایک عام آدمی کے لیے، دین اس شریعت پر عمل پیرا ہونا رہ جاتا ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جب وہ اس ‘شریعت’ کی پیروی کر رہے ہیں تو درحقیقت وہ کتاب اللہ کی ‘شریعت’ پر نہیں بلکہ اپنے مخصوص فرقے کے مذہبی پیشواؤں کی ‘شریعت’ کی پیروی کر رہے ہیں۔ جبکہ اللہ واضح طور پر ان تمام ‘شریعتوں’ کے بنانے والوں کو شریک قرار دیتا ہے جو اللہ کے دین میں سختی سے حرام ہے (42:21)۔
‘علماء’ کی اکثریت لوگوں کو حقیقی ‘دین’ / اللہ کے فیصلے سے گمراہ کرتی ہے (9:34)۔ ہر ایک کے لیے ہدایت کی کتاب ہے (الکتاب) تاہم لوگ اس ہدایت پر عمل کرنے کے بجائے دین کے بڑے بڑے ناموں کی پیروی کرنا پسند کرتے ہیں جو یہ تاثر دیتے ہیں کہ عام آدمی اپنے طور پر صحیح راستے پر چلنے سے قاصر ہے اور اس لیے ان کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ ۔ سچے مومنین بنیادی طور پر ایک دوسرے کے ‘ولی’/محافظ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ کی آیات کے ساتھ ایک دوسرے کو نصیحت/تصحیح کرتے ہیں۔
7:3 اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
تم لوگ اتباع کرو اس کی جو تم پر اترا ہے تمہارے رب کی طرف سے اور تم اتباع نہ کرو اس کے علاوہ اولِيا کی , کم ہی تم لوگ یاد دہانی/نصیحت مانتے ہو
علمائے کرام کی اکثریت لوگوں کا پیسہ ہڑپ لیتی ہے ۔ وہ لوگوں کے دلوں کو اپنے اختیار کے تابع کرنے اور پیسے بٹورنے کے لیے خوف دلاتے ہیں۔ نیز، وہ اللہ کا راستہ بتانے کے بجائے زیادہ تر اپنے، فرقہ وارانہ مذہب کا پرچار کرتے ہیں۔
9:34 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۗ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک كَثير تعداد میں علماء اور رهْبان (خوف دلانے والے ) لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور الله کے راستے کے بارے میں مخالفت کرتے ہیں اور جو لوگ سونا اورچاندی جمع کرتے ہیں اور اسے الله کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دے
کچھ علماء یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اللہ کی کتاب سے ہے، جو حقیقت میں کتاب میں سے نہیں ہوتا، وہ صرف کتاب سے ملتا جلتا نظر آتا ہے ۔کیونکہ اس میں زیادہ تر کہانیاں اور تفسیر ہوتی ہیں جو کتاب کی انسانی تشریح ہیں۔ لیکن لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ قرآن ہے۔
3:78 وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
اور بےشک ان میں سے ایک فرِيق/جماعت ہے کہ مروڑتے ہیں اپنی زبانوں کو الکتاب کے ساتھ, تاکہ تم یہ خیال کرو کہ وہ الکتاب میں سے ہے اور وہ الکتاب میں سے نہیں ہے, اور وہ کہتے ہیں کہ الله کے ہاں سے ہے اور وہ الله کے ہاں سے نہیں ہے اور وہ الله پر جھوٹ کہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں
6:114 أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
کیا میں الله کےعلاوہ حاكم ڈھونڈوں حالانکہ اس نے تمہاری طرف مُفَصّل الکتاب اتاری ہے اور وہ لوگ جنہیں ہم نے الکتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حَق کے ساتھ نازل ہوئی ہے پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو
مندرجہ بالا آیت اس سوال کا جواب اور وجہ فراہم کرتی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور حكم كرنے والے كو کیوں نہیں تلاش کیا جانا چاہیے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے ایک مفصل کتاب نازل کی ہے۔
2:166-167 إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ
وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
جب وہ لوگ بیزار ہو جائیں گے جن کی اطباع کی گئی تھی ان لوگوں سے جنہوں نے اطباع کی تھی, اور وہ عذاب دیکھ لیں گے اور ان کے تعلقات ٹوٹ جائیں گے
اور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے اطباع کی تھی, کاش ہمیں دوبارہ جانا ہوتا تو ہم بھی ان سے بیزار ہوجاتے جیسے یہ ہم سے بیزار ہوئے ہیں اسی طرح الله انہیں ان کے اعمال حسرت دلانے کے لیے دکھائے گا اور وہ آگ سے نکلنے والے نہیں
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ قران کی سخت آیات ان کے لیے نہیں بلکہ اور لوگوں کے لیے ہیں ان کے لیے
21:10 لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
تحقیق ہم نے تم لوگوں پر کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی ذكر/یاد دہانی ہے پس کیا تم عقل نہیں رکھتے
جیسا کہ اوپر کی آیات بیان کرتی ہیں کہ جو لوگ مذہبی علمبرداروں کی پیروی کر رہے تھے، انہیں قیامت کے دن اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔
اس کے بعد مذہبی ‘مفتی اعظم’ ہیں جو مختلف مسائل کے لیے ‘فتوی’ (مذہبی مشورے) جاری کرتے ہیں اور ‘شریعت’ کی کتابیں لکھتے ہیں۔ وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ’فتویٰ‘ یا ان کی ’شرعی‘ کتاب پر عمل کرتے ہوئے، اس کی ذمہ داری ’مفتی‘ پر عائد ہوگی، اور غلطى كى صورت مىں اس فیصلے کی ذمہ داری پیروکاروں پر نہیں عائد ہوگی۔ ذیل کی آیت اس مسئلہ کا احاطہ کرتی ہے
29: 12-13 وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِيلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ وَمَا هُم بِحَامِلِينَ مِنْ خَطَايَاهُم مِّن شَيْءٍ ۖ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
اور کہا جن لوگوں نے کفر کیا/ڈھانپ دیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے کہ ہمارے راستے کی اتباع کرو اور ہم ضرور تمہاری خطَائوں کا بوجھ اٹھا لیں گے اور وہ ان کی خطَائوں کے بوجھ سے کچھ بھی – اٹھانے والے نہیں بے شک وہ ضرور جھوٹے ہیں
اور وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ اور بوجھ بھی اور ضرور ان سے پوچھا جائے گا قیامت کے دن, ان باتوں کے متعلق جو وہ افترا کرتے تھے

پھر قیامت کے دن پیروکار اور پیروی کروانے والے دونوں حاضر ہوں گے اور پیروکار پوچھیں گے کہ ہم نے آپ کی پیروی کی جیسا کہ آپ نے ہم سے کہا تھا۔ تو، کیا آپ کا ہماری مدد کرنے کا کوئی طریقہ ہے، لیکن افسوس ان کے لیے کوئی مدد نہیں ہو گی۔
14:21 وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍ
اوریہ سب الله کے سامنے کھڑیں ہوں گے تب کمزور متکبروں سے کہیں گے ہم تو تمہارے تابع تھے سو ہمیں الله کے عذاب سے کچھ بچاؤ گے وہ کہیں گے اگر ہمیں الله ہدایت کرتا تو ہم تمہیں ہدایت کرتے اب ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں
34:33 وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا ۚ وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اورجو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ ان سے کہیں گے جو متکبر تھے بلکہ (تمہارے ) رات اور دن کے فریب نے جب تم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم الله کا كفر كریں اوراس کے لیے ہمسر ٹھیرائیں اور دل میں بڑے پشیمان ہوں گے جب عذاب کو سامنے دیکھیں گے اورکافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈالیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اسی کا تو بدلہ پا رہے ہیں
اللہ اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ اس کی ذات اور اس کے حکم میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، لیکن وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ ان کو بنائیں جو اللہ کے متوازی حکم دیتے ہیں۔ لوگوں کو احساس کرنا چاہئے کہ وہ اپنا کتنا دین اللہ کی کتاب سے لیتے ہیں اور کتنا ان سے
42:21 أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
کیا ان کے شرکاوں نے ان کے لیے دین/فیصلہ میں شرع نکالی ہے جس کی الله نے اس کے ساتھ ہر گز اجازت نہیں دی اور اگركَلمہ تفصیل سے نہ ہوتا تو ضرور ان کے درمیان (فیصلہ) پورا ہوجاتا اور بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے
جو لوگ ‘شریعت’ بناتے ہیں وہی (اللہ کے) شراکت دار ہیں جیسا کہ اوپر آیت میں بیان ہوا ہے۔
قرآن اللہ کی کتاب اور رسول کا قول ہے (69:40-46)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو لوگوں تک پہنچایا ہے نہ کہ دیگر احادیث کی کتابوں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہیں۔ قیامت کے دن وہ لوگ جو بڑے بڑے ناموں کے لوگوں کی پیروی کرتے تھے، کہیں گے کہ کاش انہوں نے اپنے سیدوں اور بڑے بڑے نام اور القابات والوں کی پیروی کے بجائے اللہ اور رسول کی اطاعت کى هوتى ۔
33:66-67 يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا
جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے کہیں گے اے کاش ہم اطاعت کرتے الله کی اوراطاعت کرتے رسول کی اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سیّدوں کی اور اپنے اکابرین کی, پس انہوں نے ہمیں راستے سے گمراہ کردیا
سچے مومن ‘اولیاء’ ہیں یعنی ایک دوسرے کے پشت پناہ۔ یہ بنیادی طور پر دو طرفہ ٹریفک ہے۔ ہر ایک دوسرے کو آیات کی مدد سے درست کر سکتا ہے۔ وہ مومن جو ہر نصیحت/حکم کے لیے ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی کتاب سے متعلقہ آیات کا حوالہ دینا چاہیے۔
9:71 وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور مومن مرد اورمومن عورتیں بعض ان کے بعض کے اولیا/ سرپرست ہیں,وہ امرکرتے ہیں معروف کے ساتھ اور روکتے ہیں منكر(غیرمعروف/ بہروپیہ) کے بارے میں, اورنماز قائم کرتے ہیں اور زکواة دیتے ہیں اور الله کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے رسول کی , یہی لوگ ہیں جن پر الله عنقریب رحم کرے گا بے شک الله زبردست حکمت والا ہے