قرآن میں قصاص کا تصور

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

قرآن میں قصاص کا تصور

قرآن میں ‘قصاص’ کا تصور یہ ہے کہ اگر آپ کے عمل سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے، تو آپ کو اس تکلیف کے تناسب سے اسے مساوی معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پہنچائی گئی تکلیف اور اس کے مناسب مساوی معاوضے کے درمیان ایک تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

کچھ معاشروں میں عمومی رہنما اصول موجود ہیں، مثال کے طور پر، اگر کسی حادثے میں کوئی شخص اپنی ٹانگ کھو دیتا ہے، تو اسے معاوضے کے طور پر کتنی رقم ادا کی جانی چاہیے؟ تکلیفیں جسمانی بھی ہو سکتی ہیں اور نفسیاتی بھی، لیکن دونوں پر ایک ہی اصول لاگو ہوتا ہے۔

‘قصاص’ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی آپ کی آنکھ کو نقصان پہنچائے تو آپ بھی اس کی آنکھ کو نقصان پہنچائیں۔ اگر کوئی برا یا ظالمانہ کام کرتا ہے، تو اسے اس کے مساوی بدبختی کا سامنا کرنا پڑے گا، خواہ وہ ملکی قانون کی سزا کے ذریعے ہو یا اللہ کی طرف سے کوئی جسمانی یا نفسیاتی مصیبت الہی مداخلت کے ذریعے اس پر نازل ہو۔

جس مومن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو، اسے ظالم سے انتقام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے اس یقین سے تسلی لینی چاہیے کہ ظالم کو اس کے ظلم کا پورا پورا بدلہ ملے گا جیسا کہ اللہ کی کتاب میں طے شدہ ہے۔ اگر مومن خود بدلہ لیتا ہے تو الہی قانون کے مطابق خود اس مومن پر بھی ویسی ہی مصیبت آئے گی۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی آپ کے کان کو زخمی کر دے، تو الہی قانون کے مطابق اس کے ساتھ بھی اس کے برابر کی مصیبت آئے گی۔ یا تو اسے قانون سے سزا ملے گی یا کوئی مساوی جسمانی یا نفسیاتی مصیبت اس پر آئے گی۔ تاہم، اگر آپ بدلے میں اس کا کان زخمی کر دیں گے، تو کان زخمی ہونے والی کوئ مساوی مصیبت آپ پر بھی آئے گی۔

مومن اس علم کے ذریعے اپنے نفسیاتی زخموں کو بھرتے ہیں اگر ان کے ساتھ کوئی زیادتی یا ظلم ہوا ہو۔ انہیں انتقام اور نفرت کی آگ میں جلنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ اس کا حل کرے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ معاف کر دیا جائے اور معاملہ الہی انصاف پر چھوڑ دیا جائے۔

5:45 وَكَتَبْنَاعَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَن تَصَدَّقَبِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ ۚ وَمَن لَّمْيَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

"اور ہم نے ان پر اس میں (تورات میں) لکھ دیا تھا کہ: جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور زخموں کا بدلہ (تعلق) ہے۔ پس جو اسے صدقہ (معاف) کر دے، تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی ظالم ہیں۔”

جب الکتاب ‘آنکھ کے بدلے آنکھ’ کا ذکر کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو اپنی خراب آنکھ کے معاوضے میں کسی کی آنکھ نکالنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کسی کی آنکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں، تو آپ کو اس غلطی کے لیے مساوی معاوضہ ادا کرنا ہوگا، ورنہ آپ پر اسی کے برابر سزا نازل ہوگی۔ آیت 5:45 کو بعض اوقات معاوضے کے لحاظ سے غلط سمجھا جاتا ہے اور لوگ سوچتے ہیں کہ آنکھ ہی آنکھ کا معاوضہ ہے۔ تاہم، اگر آپ آیت 5:45 اور 2:178 کا ایک ساتھ مطالعہ کریں؛ تو جس عربی نحو (syntax) میں آیت 5:45 آنکھ کے بدلے آنکھ کہتی ہے، اسی طرح آیت 2:178 کہتی ہے کہ عورت کے بدلے عورت، غلام کے بدلے غلام۔ یہ واضح ہے کہ اگر آپ کسی کی عورت کو قتل کرتے ہیں، تو آپ کو اس جرم کی سزا ملے گی، آپ کی عورت کو نہیں۔

2:178 يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّوَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَلَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌمِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰبَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ

"اے ایمان والو! تم پر قتل کے بارے میں قصاص لکھ دیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت۔ پھر جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی مل جائے، تو اسے معروف طریقے سے پیروی کرنی چاہیے اور احسان کے ساتھ اسے (معاوضہ) ادا کرنا چاہیے، یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس کے بعد جو کوئی حد سے بڑھے گا اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔”

2:179 وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور تمہارے لیے قصاص/تعلق میں زندگی ہے,اے عقلمندو, تاکہ تم تقوی اختیار کرو

آیت 2:178 کہتی ہے کہ قصاص تم پر لکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ قصاص مومنوں پر فرض ہے۔ (وہی نحو جو آیت 2:183 میں روزوں کے فرض ہونے کے لیے استعمال ہوا ہے)۔ تاہم، قرآن حکم دیتا ہے کہ قصاص زندگی کے لیے ہے موت کے لیے نہیں (آیت 2:179)۔ اس کا مطلب ہے کہ سزائے موت کی اجازت نہیں ہے۔ آیت 17:33 کہتی ہے کہ مقتول کے ‘ولی’ کو قتل میں زیادتی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ مدد یافتہ ہے (یعنی اسے اللہ کی طرف سے معاوضہ اور مدد ملے گی)۔

17:33 وَلَاتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَمَن قُتلَمَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَمَنصُورًا

 اور نہیں تم قتل کرو نفس کو جس کو الله نے حرام کیا ہے سوائے حق کے ساتھ اور جو کوئی مظلوم قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے ولی کے لئے اختیار بنایا ہے پس وہ قتل میں اسراف نہ کرے بے شک وہ مدد کیا ہوا ہے

42:39 وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ

 اور وہ لوگ جب ان تک کوئی غلط کاری پہنچتی ہے تو وہ اپنی مدد کرتے ہیں

مومن اپنی مدد اس تسلی کے ذریعے کرتے ہیں کہ جس ظالم نے ان پر ظلم کیا ہے وہ (اللہ کی طرف سے) اسی طرح کے انجام سے دوچار ہوگا، یعنی اللہ اس کے غلط کاموں کا پورا پورا بدلہ دے گا۔

42:40 وَجَزَاءُسَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَاوَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَايُحِبُّ الظَّالِمِينَ

” اوربرائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے پس جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کر لی تو اس کا اجر الله کے ذمہ ہے بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔”

یہاں نکتہ یہ ہے کہ برائی کا بدلہ اللہ کی طرف سے دیا جائے گا، اس لیے انتقام لینا جائز نہیں ہے، اور جو شخص اس علم کے ساتھ معاف کر دیتا ہے، اللہ اسے معاوضہ دے گا۔

42:41 وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ

"اور یقیناً جس نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد اپنی مدد کی، تو ایسے لوگوں پر کوئی راستہ (الزام) نہیں ہے۔”

اگر مومن ظالم سے ویسی ہی برائی کے ساتھ بدلہ لیتا ہے، تو وہ بھی اسی کشتی کا سوار ہوگا۔ وہ مومن جو اس علم کے ساتھ اپنی مدد کرتے ہیں کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور وہ ظالموں کو بدلہ دے گا، ان پر کوئی ملامت نہ ہوگی۔

42:42 إِنَّمَاالسَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْعَذَابٌ أَلِيمٌ

"راستہ (الزام) تو صرف ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں، ایسوں ہی کے لیے دردناک عذاب ہے۔”

42:43 وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ

"اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا، تو یہ یقیناً ہمت کے کاموں میں سے ہے۔"

41:34 وَلَاتَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِ يهِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ

"اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتیں۔ برائی کو اس چیز سے دور کرو جو بہترین ہو۔ پھر وہ شخص کہ تمہارے اور اس کے درمیان دشمنی تھی، وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی قریبی دوست!”

دوبارہ کہا گیا ہے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہیں۔ مومنوں کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ برائی اور تکلیف کا جواب کسی بہت بہتر چیز سے دیں۔ انہیں اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کا جواب اچھے ردعمل سے دینا چاہیے اور اس کا نتیجہ سابقہ دشمنوں کے درمیان نفرت کا خاتمہ ہوگا۔


نوٹس:

26:93 مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ

"اللہ کے سوا؟ کیا وہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں یا اپنی مدد کر سکتے ہیں؟”

عربی لفظ ‘انتصر’ کا مطلب ‘اپنی مدد کرنا’ ہے جیسا کہ اوپر کی آیت سے واضح ہے۔ یہ واضح کرنے کے لیے ہے کہ اس لفظ کا ترجمہ تمام مترجمین نے اس آیت میں ‘اپنی مدد کرنا’ کیا ہے، تاہم دیگر مواقع پر قرآن میں کچھ مترجمین نے اس لفظ کا ترجمہ انتقام کیا ہے، جو کہ درست نہیں ہے۔

16:126 وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ ۖ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ

"اور اگر تم سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی تھی۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔”

اگر ظلم کا دائرہ فوجداری قانون کے تحت آتا ہے، تو معاشرہ اور ملکی قانون مجرموں کا پیچھا کرے گا۔ کسی بھی جرم کی سزا جرم کے تناسب سے ہونی چاہیے جیسا کہ دنیا کے بیشتر عدالتی نظاموں میں رائج ہے۔ مظلوموں کو صبر کرنا چاہیے کیونکہ دنیاوی عدالتی نظام عمل درآمد میں وقت لیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر دنیا کا عدالتی نظام مجرموں کو مناسب سزا دینے میں ناکام بھی ہو جائے، تب بھی ایسا ممکن نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے ملنے والی اپنی واجب سزا سے بچ سکیں