بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
بہت سے لوگ ‘جنوں’ کو ایسی مافوق الفطرت مخلوق سمجھتے ہیں جو انسانوں سے بہت مختلف ہے۔ جنوں کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو سکتے ہیں، مختلف شکلیں اور صورتیں اختیار کر سکتے ہیں اور یہاں تک کہ انسانی جسموں میں داخل ہو کر ان پر قابض ہو سکتے ہیں۔ وہ مادی شکل سے آزاد ہیں اور ہوا یا خلا میں اڑ سکتے ہیں۔ ان کی خوراک انسانوں سے مختلف ہے؛ وہ ہڈیاں اور مٹھائیاں کھاتے ہیں۔ ان کی عمر کا دورانیہ انسانی عمر سے مختلف ہے جو سینکڑوں سالوں پر محیط ہوتا ہے، اور جنوں کے بارے میں اسی طرح کے بے شمار تصورات پائے جاتے ہیں۔
لفظ ‘جن’ کا مادہ ‘ج ن ن‘ ہے جس کے معنی ‘ڈھکا ہوا’ یا ‘پوشیدہ’ ہونے کے ہیں۔ اس پوسٹ میں ہم دیکھیں گے کہ القرآن ہمیں جنوں کے بارے میں کیا بتاتا ہے، اور کیا اوپر بیان کیے گئے تصورات قرآن سے ہیں یا قرآن سے باہر کے ہیں:
17:95 قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا
"کہہ دیجئے کہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔”
مندرجہ بالا آیت ایک اصول بیان کرتی ہے کہ رسول اپنی ہی صنف کے لیے بطور مثال بھیجے جاتے ہیں۔ آیت وضاحت کرتی ہے کہ زمین پر انسانی رسول کیوں بھیجا گیا، کیونکہ انسان زمین پر بستے ہیں۔ اگر زمین پر فرشتے آباد ہوتے تو یقیناً ان کے درمیان رہنے اور الله کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک فرشتہ ہی بھیجا جاتا۔
46:29-32 وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا ۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ ألِيمٍ
"اور جب ہم نے (اے پیغمبر) جنوں کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ قرآن سنیں۔ پھر جب وہ اس کے سامنے حاضر ہوئے تو کہنے لگے ‘خاموشی سے سنو!’ جب وہ (تلاوت) مکمل ہوئی تو وہ اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر لوٹے۔ انہوں نے کہا اے ہماری قوم! ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو اسکے ہاتھوں کے درمیان ہے۔ وہ حق اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اے ہماری قوم! الله کے پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لاؤ۔ وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔”
مندرجہ بالا آیات بتاتی ہیں کہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن سنا اور جب وہ اپنی قوم کے پاس واپس گئے تو انہیں بتایا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل ہونے والی کتاب سنی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوں کا یہ گروہ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر یقین رکھتا تھا۔
72:1-4 قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا
"کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا۔ انہوں نے کہا، ‘ہم نے واقعی ایک عجیب کلام سنا ہے! ‘وہ بھلائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، چنانچہ ہم اس پر ایمان لے آئے۔ ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ‘اور ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے۔ اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا ہے اور نہ بیٹا۔’ ‘ہمارے درمیان کچھ نادان ایسے تھے، جو اللہ کے بارے میں حد سے بڑھی ہوئی جھوٹی باتیں کیا کرتے تھے۔’”
مندرجہ بالا آیات جنوں کے ایک اور گروہ کا ذکر کرتی ہیں، جنہوں نے قرآن سنا اور انہیں احساس ہوا کہ یہ ایک بہترین کلام ہے اور ہدایت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ انہیں خالص توحید کی دعوت دیتا ہے کیونکہ خدا کی نہ بیوی ہے نہ بیٹا۔ ان میں سے نادان لوگ خدا پر جھوٹی باتیں منسوب کرتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ جنوں کا یہ گروہ پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا مانتا تھا۔
آیات کے ان دو مجموعوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جن انسانی رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیا یہ نتیجہ نکالنا منطقی نہیں کہ اگر جن انسانوں کے علاوہ کوئی مختلف مخلوق ہوتے تو آیت 17:95 کے اصول کے مطابق ان کی طرف جن رسول بھیجے جاتے؟ تاہم ہم دیکھتے ہیں کہ جنوں نے انسانی رسولوں پر یقین کیا اور مزید یہ کہ جب انہوں نے قرآن سنا تو اسے ہدایت کے راستے کے طور پر قبول کیا۔ اب، ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں انسانوں کے لیے تمام ہدایات موجود ہیں جیسے نماز، زکوٰۃ، وضو، حرام و حلال کھانا، اور زندگی گزارنے کے تمام احکامات انسانوں کے لیے ہیں۔ جنوں کا قرآن سے تعلق جوڑنا اور اس پر ایمان لانا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ وہ ساخت کے لحاظ سے انسانوں سے مختلف مخلوق نہیں ہیں۔
55:14-15خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ
"اس نے انسان کو ٹھیکرے جیسی بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، اور جن (جان) کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔”
اوپر کی آیت میں لفظ ‘جان’ استعمال ہوا ہے جو جنوں کے جینیاتی نسب کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انہیں ان کی مخصوص ‘آتشی’ رنگت دیتا ہے جس کا مطلب ہے کہ جس نسل سے وہ تعلق رکھتے تھے وہ سرخی مائل آتشی رنگت کی تھی۔ اس کے مقابلے میں ‘انسان’ ابتدا میں مٹی کے رنگ کا تھا۔ آیت 15:27 ہمیں بتاتی ہے کہ ‘جان’ کی نسل, وقت کے لحاظ سے انسانوں سے پہلے تھی۔
15:26-27 وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ
"ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، جو سڑے ہوئے گارے سے بنی تھی؛ اور جان کو ہم نے اس سے پہلے لو والی آگ/مسام دار آگ سے پیدا کیا تھا۔”
مندرجہ بالا آیات بتاتی ہیں کہ ‘جان’ (وہ نسل جس سے جنوں نے اپنا زیادہ تر جینیاتی مواد حاصل کیا) , وہ انسانوں سے پہلے موجود تھے۔ انسانی جینوم کا مطالعہ اور موجودہ انسانوں کی جینیاتی معلومات اور پرانے زمانے کے ڈھانچوں کی دریافت انسانی ابتدا اور ان کے قدیم معدوم کزنز کے بارے میں بہت سی معلومات ظاہر کر تی ہیں- "ایک قیاس آرائی انسانوں کی ایک اور قسم ‘نیئنڈرتھل’ کے بارے میں ہے، جو مضبوط اور کسرتی جسم اور رنگت میں گورے تھے؛ اور دورِ حاضر کے غیر افریقی انسانوں کے جنیاتی مواد (ڈی این اے) میں ان کا کچھ فیصد حصہ پایا جاتا ہے۔ انسانوں کی یہ قریبی نسل موجودہ دور کے انسانوں (ہومو سیپیئنز) سے پہلے وجود میں آئی اور آباد رہی۔”
7:179 وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُم الْغَافِلُون
"اور ہم نے بہت سے جنوں اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں۔”
مندرجہ بالا آیت بیان کرتی ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں کے بھی دل، آنکھیں اور کان ہیں۔ لہذا، جسمانی طور پر ان کے اعضاء اور جسمانی حصے انسانوں جیسے ہی ہیں۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ ساختی طور پر انسان اور جن مختلف نہیں ہیں۔
114:4-6مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ
"(پناہ مانگتا ہوں) وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے، جنوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی۔”
صرف جن ہی دلوں میں برا وسوسہ نہیں ڈال سکتے، بلکہ انسان بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ لہذا، اس معاملے میں دونوں برابر ہیں۔ چنانچہ، یہ جنوں کی کوئی مافوق الفطرت صلاحیت نہیں ہے کہ وہ انسانی جسم کے اندر جا سکیں۔
7:11 وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ
"اور ہم نے تم سب کوپیدا کیا، پھر تمہاری صورتیں بنائیں، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا۔”
یہ آیت 7:11 بتاتی ہے کہ الله نے ہم سب کو پیدا کیا اور صورتیں دیں اس کے بعد فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ جن اور انسان اس وقت موجود تھے جب الله نے آدم میں اپنی روح پھونکی اور روح پھونکنے کے بعد فرشتوں سے آدم میں موجود اپنی روح کو سجدہ کرنے کو کہا۔
تمام جنوں اور انسانوں میں سے، الله اسے اپنا خلیفہ منتخب کرتا ہے جس میں الله کی روح موجود ہوتی ہے۔ الله کی روح والا یہ خلیفہ زمین پر خونریزی اور تشدد نہیں کرتا۔ وہ لوگ جو الله کے الفاظ کی حقیقی روح کو نہیں سمجھتے، وہ شاید ‘قتال’ (لڑائی) جیسی ہدایات کو جسمانی لڑائی سمجھیں اور اس طرح فرض کریں کہ خلیفہ زمین پر جنگیں اور خونریزی کرے گا۔ تاہم، الله ان تصورات کو مسترد کرتا ہے۔
2:30 وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُون
"اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا۔ ‘میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔’ انہوں نے کہا۔ ‘کیا تو اس میں ایسے کو بنائے گا جو وہاں فساد مچائے گا اور خون بہائے گا؟ جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔’ اس نے کہا۔ ‘میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔’”
6:128 وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِیہَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا, جنوں کی جماعت سے فرمائے گا تم نے انسانوں کا بڑا حصہ لے لیا اور انسانوں میں سے جو ان کے دوست تھے کہیں گے اے ہمارے رب ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے استفادہ کیا اور ہم اپنی معیاد کو آ پہنچے جو تو نے ہمارے واسطے مقرر کی تھی, فرمائے گا تم سب کا ٹھکانا آگ ہے اس میں ہمیشہ رہو گے سوائے یہ کہ جو اللہ چاھے, بے شک تیرا رب حکمت والا جاننے والا ہے
جن اور انسان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جنوں نے انسانوں کی اکثریت کو (متاثر کر کے) اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے۔ جنوں کا روایتی تصور یہاں فٹ نہیں بیٹھتا، کیونکہ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ زیادہ تر انسانوں پر جنوں کا قبضہ ہے اور نہ ہی ہم بڑے پیمانے پر جنوں اور انسانوں کو ایک دوسرے کی مدد اور فائدہ پہنچاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ درحقیقت دنیا کے اکثر لوگوں نے روایتی تصور والے جن کو کبھی نہیں دیکھا۔ لہذا، وہ جن, جن کا قرآن یہاں ذکر کرتا ہے، شکل و صورت اور ساخت کے اعتبار سے انسانوں جیسے ہونے چاہئیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ خود بھی نہ جانتے ہوں کہ وہ جن ہیں۔ ہم یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے پسماندہ دنیا کو یا تو استعمار یا معاشی تسلط کے ذریعے غلام بنا رکھا ہے۔ نیز اس تسلط کی وجہ سے ترقی یافتہ قومیں اپنے نظریات اور فلسفوں سے کم ترقی یافتہ دنیا پر اثر انداز ہوتی ہیں جو کہ زیادہ تر الحادی یا لاادریت پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہذا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن، دنیا کی ان ترقی یافتہ اور جدید قوموں کا وہ حصہ ہیں جن کی حقیقی شخصیتیں پوشیدہ ہیں اور جن کے سیکولر نظریات اور فلسفے دنیا کے لوگوں کی اکثریت پر غالب آ چکے ہیں۔ ‘پوشیدہ’ ہونے کا پہلو آیت 53:32 سے بھی نکلتا ہے جہاں ماں کے پیٹ میں چھپے ہوئے بچے کے لیے ‘اجنہ’ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
6:130 يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
"اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں میری آیات سناتے تھے، اور تمہیں تمہارے اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟” وہ کہیں گے۔ "ہم اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں۔” انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ وہ واقعی کافر (انکار کرنے والے) تھے۔
مندرجہ بالا آیت جنوں اور انسانوں کو مخاطب کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ دونوں میں رسول آئے ہیں۔ ہم نے اوپر کی پوسٹ کی ابتدائی آیات میں دیکھا کہ جنوں نے وہی قرآن پڑھا اور موسیٰ اور عیسیٰ جیسے رسولوں پر ایمان لائے۔ قرآن کسی ‘جن رسول’ کا ذکر نہیں کرتا۔ جبکہ یہ آیت کہتی ہے کہ رسول انہی میں سے آئے اور انہیں قرآن کی آیات سنائیں۔ جبکہ ہمیں قرآن میں مافوق الفطرت غیر مرئی مخلوق کے لیے زندگی گزارنے کی ہدایات والی کوئی آیات نہیں ملتیں۔ یہ آیت اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ جن انسانوں سے مختلف مافوق الفطرت، ان دیکھی مخلوق نہیں ہیں۔
72:4-7 وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن تَقُولَ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَبْعَثَ اللَّهُ أَحَدًا
"(جنوں نے کہا) ‘ہمارے درمیان کچھ نادان ایسے تھے، جو الله کے بارے میں حد سے بڑھی ہوئی جھوٹی باتیں کیا کرتے تھے۔’ ‘اور ہم یہ سمجھتے تھے کہ کوئی انسان یا جن الله کے بارے میں کبھی جھوٹ نہیں کہے گا’۔ اور واقعی انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگتے تھے، تو انہوں نے ان کی گمراہی اور بڑھا دی۔ ‘اور وہ (بھی) ویسا ہی گمان کرنے لگے جیسا تم گمان کرتے ہو، کہ الله کسی کو (دوبارہ) نہیں اٹھائے گا۔’
جنوں کی اس جماعت نے، جس نے قرآن سننے اور اس پر غور کرنے کے بعد اسے قبول کیا، مزید کہا کہ ہمارے گروہ میں کچھ ایسے جن تھے جنہوں نے حماقت میں الله کے بارے میں جھوٹی باتیں کہی تھیں، جبکہ ہم نے یہ فرض کر لیا تھا کہ الله کے معاملات میں کوئی دھوکہ نہیں دے گا۔ (یہ وہی صورتحال ہے جو ہم آج لوگوں میں دیکھتے ہیں)۔
ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن ٹیکنالوجی میں انسانوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں کیونکہ آیت مزید بتاتی ہے کہ انسانوں کے گروہ کے مرد , جنوں کے گروہ کے مردوں سے پناہ لیتے ہیں۔ چنانچہ انسانوں کے یہ مرد پھر گمراہی میں مزید بڑھ جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انسان، جنوں کی نقل کریں، اور زیادہ تکنیکی طور پر ترقی یافتہ جن قوموں کے نظریات کو اپنائیں, جن کا جھکاؤ الحادی خیالات اور مذہبی عقائد (جیسے خدا اور آخرت کا تصور) سے بیزاری کی طرف ہو۔
72:8-9وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا
"‘اور ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے مضبوط پہرے داروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔’ ‘اور ہم اس کے ٹھکانوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے؛ اب جو کوئی سنتا ہے وہ اپنے لیے ایک شعلہ تاک میں پاتا ہے۔’”
مندرجہ بالا آیات سے واضح ہے کہ جن ترقی یافتہ اور تکنیکی طور پر جدید قومیں ہیں۔ انہوں نے آسمانوں کو کھوجا اور اسے مضبوط قوتوں اور شدید گرمی و توانائی سے بھرا ہوا پایا۔ جدید تکنیکی قومیں خلا میں راکٹ اور سیٹلائٹ بھیجتی ہیں۔ جو بھی خلا میں جاتا ہے اسے راکٹ استعمال کرنے پڑتے ہیں جن کے پیچھے آگ کے گرم شعلے ہوتے ہیں۔

72:10-16 وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن نُّعْجِزَ اللَّهَ فِي الْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُ هَرَبًا وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَىٰ آمَنَّا بِهِ ۖ فَمَن يُؤْمِن بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولَٰئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا وَأَن لَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاءً غَدَقًا
” اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کی نسبت ان کے رب نے راہ راست پر لانے کا ارادہ کیا ہے , اور کچھ تو ہم میں سے نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے, ہم بھی مختلف طریقوں پر تھے, اور بے شک ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ہم الله کو زمین میں کبھی عاجز نہ کر سکیں گے اور نہ ہی ہم بھاگ کر عاجز کر سکیں گے, اور جب ہم نے ہدایت کی بات سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے, پس جو اپنے رب پر ایمان لے لآیا تو نہ اسے نقصان کا ڈر رہے گا اور نہ ظلم کا, اور کچھ تو ہم میں سے مسلم/سر تسلیم خم کرنے والے ہیں اور کچھ بے انصاف ہیں پس جو کوئی مسلم/سر تسلیم خم کرنے والا ہو گیا پس ایسے لوگوں نے سیدھا راستہ تلاش کر لیا, اور لیکن جو بے انصاف ہیں سو وہ دوزح کا ایندھن ہوں گے, اور اگر سیدھے راستے پر قائم رہتے تو ہم ان کو با افراط پانی سے سیراب کرتے”
جنوں کے اس گروہ نے اپنی بات جاری رکھی کہ وہ نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے برائی کا ارادہ ہے یا ان کا رب انہیں ہدایت دینا چاہتا ہے۔ ان میں صالح بھی ہیں اور دوسرے بھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ وہ الله کو زمین میں عاجز نہیں کر سکتے۔ جب انہوں نے ہدایت سنی تو اسے مان لیا۔ الله کا پیغام ہے کہ اگر وہ سیدھے راستے پر رہتے تو الله انہیں وافر پانی پینے کو دیتا۔
براہ کرم نوٹ کریں کہ مندرجہ بالا آیات میں پانی کا ذکر جنوں کے لیے ایک نعمت کے طور پر کیا گیا ہے۔
55:10-13وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
"اسی نے زمین کو مخلوقات کے لیے بنایا۔ اس میں پھل ہیں اور کھجور کے درخت جن پر غلاف چڑھے ہوئے خوشے ہیں۔ اور بھوسے والا اناج اور خوشبودار پھول۔ پھر تم دونوں (جن اور انس) اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟”
سورہ رحمان میں الله فرماتا ہے کہ اس نے زمین بنائی، اس میں پھل، کھجوریں، خوشبودار پھول اور غلہ فراہم کیا۔ یہ جنوں اور انسانوں دونوں کے لیے نعمتیں ہیں۔ اس سورہ میں بہت سی نعمتوں کا ذکر اس سوال کے ساتھ ہے کہ تم دونوں (جن اور انس) کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جہاں ہم ان نعمتوں کو انسانوں سے جوڑ سکتے ہیں، وہیں ہم ان تمام نعمتوں کو کسی غیر انسانی، غیر مادی خیالی جن مخلوق سے نہیں جوڑ سکتے۔ لہذا یہ سورہ بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ جن جسمانی ساخت میں انسانوں سے مختلف نہیں ہیں۔
37:158 وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ
"اور انہوں نے اس کے اور جنوں کے درمیان رشتہ داری بنا لی ہے۔ حالانکہ جن خوب جانتے ہیں کہ وہ (اللہ کی عدالت میں) پیش کیے جائیں گے!”
اگرچہ ہم کسی کو جنوں (بطور مافوق الفطرت غیر انسانی مخلوق) کے ساتھ خدا کا رشتہ بناتے ہوئے نہیں جانتے، تاہم، کچھ شاہی خاندانوں کو دیوتاؤں سے متعلق سمجھا جاتا تھا، جیسے جاپانی شاہی خاندان اور قدیم مصری بادشاہ۔
55:33 يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ
"اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم میں اتنی طاقت ہے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل بھاگو تو نکل بھاگو! تم بغیر طاقت (سلطان) کے نہیں نکل سکو گے!”
‘اسکیپ ویلوسیٹی’ (فراری رفتار) جو زمین کی کشش ثقل سے نکلنے کے لیے درکار ہوتی ہے، جنوں اور انسانوں دونوں پر لاگو ہوتی ہے۔ یہ جنوں کو جسمانی خصوصیات میں انسانوں سے مختلف نہیں بناتی۔ نیز، چونکہ زمین کی کشش ثقل بلیک ہولز سے بہت کم ہے، اس لیے روشنی اور توانائی کو زمین کے ماحول سے نکلنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جنوں کے پاس (mass) ہونا چاہیے تاکہ وہ کشش ثقل کو محسوس کر سکیں۔ مطلب یہ ہوا کہ جو قران کے جن ہیں ان کے پاس ماس یعنی کہ مادہ ہے جس کی وجہ سے وہ کشش ثقل کو محسوس کرتے ہیں اور اگر وہ مادی جسم نہیں رکھتے تو وہ کشش ثقل کو محسوس نہیں کر پاتے
41:29 وَقالَ الَّذينَ كَفَروا رَبَّنا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ الْأَسْفَلِينَ
"اور کافر کہیں گے، ‘اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے ڈال دیں تاکہ وہ بہت ذلیل ہوں۔’”
قیامت کے دن کافر الله سے ان جنوں اور انسانوں کو دکھانے کا مطالبہ کریں گے جنہوں نے انہیں گمراہ کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ قوموں سے بہت سے فلسفیانہ اور الحادی خیالات آتے ہیں جو خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ یہ خیالات دنیا بھر میں درآمد کیے جاتے ہیں۔ بصورت دیگر ہمیں عام مشاہدے میں کوئی خیالی جن مخلوق لوگوں کو اللہ کے راستے سے گمراہ کرتی نظر نہیں آتی۔
34:40-41 وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ
"اور جس دن وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا، ‘کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے؟’ وہ کہیں گے، ‘تو پاک ہے! تو ہی ہمارا کارساز ہے نہ کہ یہ۔ بلکہ وہ جنوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان رکھتے تھے۔’”
ہمارے پاس خیالی جنوں کی عبادت کرنے والی کسی قوم کا ریکارڈ نہیں ہے۔ تاہم، جنوں کی تعریف ‘ترقی یافتہ قوموں’ کے طور پر یہاں فٹ ہو سکتی ہے، کیونکہ جدید دنیا کے اکثر لوگ انہی سے نکلنے والے سیکولر خیالات اور فلسفوں کی پیروی کرتے ہیں۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زیرِ اثر جن اور شیاطین
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دورِ حکومت کی تفصیل ایک جدید اور ترقی یافتہ دور کی تصویر معلوم ہوتی ہے۔ بہتر تفہیم کے لیے، آئیے ان آیات سے بہتر طور پر جڑنے کے لیے اس دور کو جدید دور کے مشابہ سمجھتے ہیں:
34:12 وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ …
"اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو (مسخر کر دیا)۔ اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی مسافت تھی اور شام کی منزل ایک مہینے کی۔ اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا؛ اور جنوں میں سے کچھ ایسے تھے جو اس کے رب کے حکم سے اس کے سامنے کام کرتے تھے…”
سلیمان کے دور میں ہم فضائی سفر کا تصور کر سکتے ہیں، جس نے ان سفروں کو جو پہلے مہینوں میں طے ہوتے تھے، اب چند گھنٹوں کا بنا دیا۔ تانبے کے چشمے کے بہنے کا مطلب تانبے کی تاروں میں الیکٹران کا بہاؤ یعنی بجلی کی موجودگی ہو سکتا ہے۔ اور جن یعنی تکنیکی طور پر ترقی یافتہ قومیںالله کے حکم سے ان کے لیے کام کر رہی تھیں۔
34:13 يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ …
"جو وہ چاہتا اس کے لیے بناتے تھے ؛ جیسے کہ عمارتیں (تعمیراتی فن)، ڈرامے (فنِ لطیفہ یا تفریحی صنعت)، بڑے تالاب جیسے حوض (صنعتی بوائلرز)، اور اپنی جگہ جمی ہوئی بڑی دیگیں (متناسب سانچے)۔ ‘اے داؤد کی آل! شکر گزاری کے ساتھ کام کیے جاؤ، اور میرے بندوں میں سے تھوڑے ہی شکر گزار ہیں!’”
چنانچہ یہ جن، جو ترقی یافتہ اور ماہر لوگ تھے، تعمیرات، صنعتوں اور ایجادات میں کام کرتے تھے۔ الله ان سے کہتا ہے کہ کام کرتے رہو اور نعمتوں پر شکر گزار رہو۔
34:14 فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
"پھر جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ کیا، تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ نہ چلا سوائے زمین کے ایک کیڑے (دابۃ الارض) کے جو ان کے عصا (منساۃ – یعنی عمر کی مدت) کو کھا رہا تھا۔ پھر جب وہ گر پڑے، تو جنوں پر واضح ہو گیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو وہ اس ذلت آمیز مشقت میں نہ پڑے رہتے۔”
جن یعنی ترقی یافتہ لوگ اپنے علم پر فخر کرتے ہیں۔ وہ فزیکل سائنسز میں مہارت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان چیزوں کے لیے جو دیکھی نہیں جا سکتیں، انہوں نے سائنسی نظریات تیار کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ الحاد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ خدا پر یقین ایک نادانی ہے جبکہ ہمارا علم بہت وسیع ہے۔ تاہم، تمام جدید علم کے باوجود، وہ اب بھی زندگی کی بنیادی حقیقتوں سے محروم ہیں اور زندگی اور موت پر کبھی قابو نہیں پا سکیں گے اور زندگی کی مشقت میں مصروف رہیں گے۔ ‘منساۃ’ یعنی عصا/لاٹھی، اس آیت میں ان کی عمر کی مدت کی علامت ہے۔ حضرت سلیمان کی عمر، ہر کسی کی طرح، زمین کی مخلوق (یعنی موت کی طرف قدرتی پیش قدمی) کے ذریعے ختم ہو رہی تھی، تاہم جن جو بہت علم والے ہیں، وہ بھی زندگی اور موت کی حقیقت کا علم نہیں رکھتے؟
آیت 34:14 کے ساتھ وابستہ روایتی تصور یہ ہے کہ شاہ سلیمان اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے فوت ہو گئے اور تب تک نہیں گرے جب تک لاٹھی کو دیمک نے نہیں کھا لیا جس میں کافی وقت لگا ہوگا۔ یہ تصور مضحکہ خیز ہے کیونکہ ایک مردہ شخص موت کے بعد لاٹھی کے سہارے نہیں کھڑا رہ سکتا، جسم فوراً گر جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک بادشاہ کی اور بہت سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن کو نبھانے کے لیے اس کو بہت سارے ڈیپارٹمنٹس اور اداروں سے ہر وقت رابطہ رکھنا پڑتا ہے اگر وہ کئی ہفتوں تک ایک ہی جگہ کھڑا رہے گا تو بہت سے اداروں,سیکرٹ سروس اور گورنمنٹ ایجنسیز کو بہت زیادہ تشویش لاحق ہو جائے گی ا اور بادشاہ کے لیے ایسا ممکن نہیں ہوگا کہ وہ ہفتوں تک ایک جگہ کھڑا رہے – نیز بادشاہ کا خاندان, بیوی بچے, انہیں ہفتوں تک بغیر کھائے پیئے ایک جگہ کھڑا دیکھ کر لاتعلق نہیں رہ سکتے
27:16 وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
"اورسلیمان داؤد کا وارث ہوا اور کہا اے لوگو ہم کو پرندوں کی بولی/منطق سکھائی گئی ہے اور ہم سب کو ہر قسم کے سازو سامان دیے گئے ہیں بے شک یہ صریح فضیلت ہے۔’”
فضائی سفر کی ٹیکنالوجی اور بہت سی نعمتیں سلیمان (علیہ السلام) کو عطا کی گئی تھیں۔
27:17 وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ
"اور سلیمان کے لیے ان کے لشکر جنوں، انسانوں اور اڑنے والوں (طیر) میں سے جمع کیے گئے اور ان کی درجہ بندی کی گئی (ترتیب میں رکھے گئے)۔”
سلیمان کی حکومت جنوں کی ترقی یافتہ قوموں اور انسانوں کی پسماندہ قوموں دونوں پر تھی اور ان کے پاس فضائیہ (Air Force) بھی موجود تھی۔
27:39 قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ
"جنوں میں سے ایک طاقتور نے کہا۔ ‘میں اسے آپ کے پاس آپ کے مقام سے اٹھنے سے پہلے لے آؤں گا۔ میں واقعی طاقتور اور امانت دار ہوں۔’”
جب سلیمان (علیہ السلام) نے پوچھا کہ ملکہ سبا کا تخت کون لا سکتا ہے، تو ایک ترقی یافتہ قوم کے جن نے کہا کہ وہ اسے چند گھنٹوں میں لا سکتا ہے۔ شاید اس کا ارادہ تیز رفتار فضائی سفر کی مدد سے لانے کا تھا۔
27:40 قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ …
"جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا۔ ‘میں اسے آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا!’”
کونسل میں ایک اور شخص تھا جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ اس علم کے ساتھ وہ سیکنڈوں میں تخت لانے (دکھانے) کے قابل تھا۔ آج کی دنیا میں یہ کام انٹرنیٹ اور ہولوگرام کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔
شیاطین جن
38:75-76قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ … قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ
"اللہ نے فرمایا: اے ابلیس، تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو نے بڑائی چاہی یا تو اونچے درجے والوں میں سے ہے؟ اس نے کہا۔ ‘میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔’”
جنوں میں سے منکروں/کافروں کو ‘شیاطین’ کہا جاتا ہے۔ وہ نسلی تعصب والے بھی ہیں کیونکہ وہ اللہ کی مخلوق میں اپنے بنائے ہوئے معیار پر فرق کرتے ہیں (مثلاً آگ پانی سے بہتر ہے یا سرخ رنگ سیاہ سے بہتر ہے)۔
نیچے دی گئی آیت میں ذکر ہے کہ سلیمان کے دور میں شیاطین (جنوں کے) زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ زنجیروں کا مطلب جسمانی بیڑیاں نہیں بلکہ سماجی اور قانونی پابندیاں ہو سکتی ہیں جو ان جنوں کو اپنی نسل پرستی اور انسانیت کے لیے حقارت دکھانے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔
38:37-38وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
"اور شیاطین کو بھی (سلیمان کے تابع کر دیا)، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور، اور دوسروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔”
6:112 وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا …
"اوراسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے شياطين اِنسانوں اورجنوں کو دشمن بنایا وہ کہ ایک دوسرے کی طرف دھوکہ سے اقَولِ زریں بنا کر وحی کرتے ہیں…”
شیاطینِ جن و انس کو ‘زخرف القول’ یعنی سنہری اقوال (اقوالِ زریں) سےگہری دلچسپی اور لگاؤ ہوتا ہے۔ وہ ان (اقوال) کو جمع کرنے، انہیں یاد رکھنے اور ان کی تصدیق و توثیق کرنے میں بہت محنت صرف کرتے ہیں اور ان کے ذریعے ایک دوسرے کو متاثر کرتے اور ورغلاتے ہیں
خلاصہ نوٹ:
جنوں کے بارے میں رائج اکثر تصورات قرآن میں نہیں ملتے۔ یہ قرآن سے باہر کی باتیں ہیں جو لوگوں کو سنی سنائی باتوں اور دیگر کتابوں سے معلوم ہوئی ہیں۔ جب لوگ قرآن میں ‘جن’ کا لفظ پڑھتے ہیں تو وہ خود بخود اسی تصوراتی مخلوق کو فرض کر لیتے ہیں جسے وہ پہلے سے جانتے ہیں۔ تاہم، قرآن یہ ذکر نہیں کرتا کہ جن غیر مرئی مخلوق ہیں، وہ شکلیں بدل سکتے ہیں، وہ انسانی جسموں میں داخل ہو سکتے ہیں، وہ ہڈیاں اور مٹھائیاں کھاتے ہیں، یا وہ ویران جگہوں پر رہتے ہیں۔ قرآن بتاتا ہے کہ جنوں کے دل، کان اور آنکھیں ہیں، وہ انسانی رسولوں پر یقین رکھتے ہیں، وہ جسمانی کام، فن پارے اور تعمیراتی کام کرتے ہیں۔ وہ فضا اور خلا میں سفر کرتے ہیں۔ سورہ رحمان میں مذکور تمام نعمتیں جنوں اور انسانوں دونوں کے لیے ہیں۔ وہ اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہیں اور ان کا بھی حساب ہوگا۔ وہ قرآن کو ہدایت کے طور پر سمجھ سکتے ہیں جبکہ قرآن میں انسانوں کے لیے تمام ہدایات جیسے نماز، زکوٰۃ، وضو، کھانا پینا، رویہ وغیرہ موجود ہیں۔ وہ انسانوں کی طرح اللہ کی بندگی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں (51:56)۔ ہمیں قرآن میں مافوق الفطرت مخلوقات کے لیے کوئی الگ ہدایات نہیں ملتیں، اس لیے یہ سب سے زیادہ قائل کرنے والا نکتہ ہے کہ جن ہر لحاظ سے انسانوں کی طرح ہیں اور وہ کوئی خیالی، غیر مرئی مخلوق نہیں ہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ وہ آیت جو کہتی ہے کہ جن آگ سے اور انسان مٹی سے پیدا کیے گئے، اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ جنوں کی تخلیق آتشی سرخ رنگ میں ہوئی جبکہ انسانوں کی زمینی رنگ میں۔
دنیا میں دیگر مافوق الفطرت مخلوق موجود ہو سکتی ہے جنہیں لوگ خلائی مخلوق، چڑیلیں, روحیں یا بھوت پریت وغیرہ کہتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کے ساتھ اپنے تجربات بھی بتاتے ہیں۔ تاہم، یہ وہ ‘جن’ نہیں ہیں جن کا قرآن ذکر کرتا ہے۔
نوٹ: لفظ ‘جن’ کا مادہ ‘ج ن ن’ ہے۔ اس مادے کے معنی پوشیدہ، ڈھکا ہوا، محفوظ، غیر مرئی، تاریک ہونا، عقل سے محروم یا دیوانہ ہونے کے ہیں
کیا ابلیس جن تھا یا فرشتہ؟
2:34 وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ
اورجب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو پس انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اورتکبر کیا اورکافروں میں سے ہو گیا۔
اللہ نے فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ سجدے کا حکم فرشتوں کو دیا گیا تھا اور ان سب نے ایسا ہی کیا سوائے ان میں سے ایک کے جو ابلیس تھا۔ اس کے بعد اسے "منکرین” (کافرین) میں شمار کیا گیا۔
18:50 وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ….
اور جب! ہم نے فرشتوں سے کہا: "آدم کے لیے سجدہ کرو” تو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ جنوں میں سے تھا ( ہو گیا)۔۔۔۔
چنانچہ ابلیس نے جب اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، تو اسے آیت 2:34 میں "کافر” اور آیت 18:50 میں "جن” قرار دیا گیا۔ اسے "جن” اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ انسان کا دشمن ہونے کے باوجود اپنی اصل شخصیت کو چھپاتا ہے اور انسان کو برائی کی ترغیب دیتے وقت خود کو اس کا خیر خواہ ظاہر کرتا ہے۔
تو یہ ہو سکتا ہے کہ جس طرح سے کافر ایک صفت ہے کوئی نسل نہیں اسی طرح جن بھی ایک صفت ہو کوئی مختلف نسل نہ ہو
لفظ "شیاطین” (جمع) شیطان کے قبیلے یعنی اس کے ہم خیال لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شیطان نے ایک خود ساختہ معیار پر فخر کیا، یعنی صرف ظاہری صورت پر کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔ اس خود ساختہ معیار کی بنا پر اس نے خود کو دوسروں سے برتر سمجھا۔ شیاطین کا قبیلہ اسی طرح ان نسل پرستوں پر مشتمل ہے جو فخر کرتے ہیں اور خود کو ایک برتر نسل سمجھتے ہیں۔
سلیمان علیہ السلام کے ساتھ جنات کا ذکر خاص طور پر کیوں ہے؟
قرآن میں سلیمان علیہ السلام کے دورِ حکومت کے ساتھ جنات کا ذکر خاصی تفصیل سے ملتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کا دور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے انتہائی ترقی یافتہ دور تھا، جہاں ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی ہوئی، مثلاً بجلی، فضائی سفر، صنعتیں، خلائی دور، تفریحی صنعت، تعمیرات اور ایجادات وغیرہ۔ سلیمان علیہ السلام کے دور سے پہلے دنیا نے شاید ترقی یافتہ اقوام کی تعداد میں ایسا واضح اضافہ نہیں دیکھا تھا، اسی لیے ہم قرآن میں جنات کا زیادہ تر ذکر سلیمان علیہ السلام کے دور سے وابستہ پاتے ہیں۔
بعض زبانوں میں ایک محاورہ استعمال ہوتا ہے، مثلاً "وہ جنوں کی طرح کام کرتا ہے”، جس کا مطلب ہے کہ وہ انتھک کام کرتا ہے اور ایک عام شخص کی توقع سے کہیں زیادہ کام مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قرآن کے مطابق، سلیمان علیہ السلام کو ایک ایسی سلطنت عطا کی گئی تھی جس کی عظمت سے حال یا مستقبل میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ قدیم شہروں کا کوئی بھی ملبہ ایسے بلند و بالا عمارات کے آثار نہیں دیتا جو ہم آج کے دور کے میگا شہروں میں دیکھتے ہیں، لہذا آج ہم جس کسی بھی قدیم شہر کو جانتے ہیں وہ سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کا امیدوار نہیں ہو سکتا۔ شاہ سلیمان کی سلطنت کی نمائندگی کرنے والے شہر میں ایسی شان و شوکت ہوگی جو آنے والے تمام وقتوں میں بے مثال رہے گی (38:35 )۔
38:35 قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
اس (سلیمان) نے کہا: "اے میرے رب! مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا کر جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو سکے؛ بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔”
ایک اور قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ تاریخ کی کوئی بھی کتاب کسی بھی دور میں روایتی افسانوی مخلوق ‘جنات’ کے اتنے بڑے پیمانے پر کام کرنے کا ذکر نہیں کرتی۔ اگر اتنی عظیم سلطنت میں جنات بڑے پیمانے پر کام کرتے تھے اور ریاستی فوج کا حصہ بھی تھے، تو اس سلطنت کا باقی دنیا کے ساتھ میل جول بھی رہا ہوتا اور پھر دوسرے لوگوں کی تاریخ میں بھی ان کا تذکرہ ہونا چاہیے تھا۔ اس طرح کے تذکروں کا نہ ہونا اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ جنات کوئی افسانوی مافوق الفطرت مخلوق نہیں ہیں۔
۔