قران کا جہاد, جنگ اور قتال, جسمانی یا نظریاتی؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

لفظ ‘اسلام’ کے معنی ‘سلامتی’ کے ہیں۔ اسلام کے معنی کے بارے میں دوسری رائے ‘تسلیم و رضا’ ہے، یعنی اللہ کی مرضی کے آگے سر جھکانا، جس کا مقصد بھی دنیا میں امن اور سلامتی پھیلانا ہی ہے۔ قرآن میں اللہ کی راہ میں جس لڑائی کا ذکر ہے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ایک ‘نظریاتی جنگ’ ہے جو اس وقت تک ایک پرامن دنیا نہیں چاہتے جب تک وہ ان کے کنٹرول میں نہ ہو۔ حیرت انگیز طور پر بہت سے لوگ مقدس جنگوں اور فتوحات کے تصور کو صحیح سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے پرامن پیغام کو پھیلانے کے لیے بہت زیادہ نظریاتی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ یہ بیان جو کہ ہم بہت سنتے ہیں کہ ہمارا ‘دین’ (فیصلہ) ‘الاسلام’ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن کو زندگی میں پیش آنے والی تمام صورتحال میں سلامتی کے راستے کا انتخاب/فیصلہ کرنا ہے جیسا کہ القرآن میں بیان کیا گیا ہے۔

لفظ ‘قتال’ کے معنی ‘لڑائی’ کے ہیں، لڑائی جسمانی بھی ہو سکتی ہے اور نفسیاتی بھی۔ لفظ ‘جہاد’ کے معنی ‘جدوجہد کرنے’ کے ہیں۔ عربی میں لفظ ‘حرب’ کا ترجمہ ‘جنگ’ ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن میں ‘تلوار’ (سیف) کا لفظ ایک بار بھی ذکر نہیں ہوا، حالانکہ مغرب میں یہ مشہور تصور ہے کہ ‘اسلام تلوار کے زور سے پھیلا’۔

اس تحریر میں ہم غیر جسمانی یعنی ‘نظریاتی’ لڑائی کے موضوع کا جائزہ لیں گے۔ ہم ان آیات کا مطالعہ کریں گے جن کا مطلب عام طور پر جسمانی لڑائی لیا جاتا ہے اور دیکھیں گے کہ ان ہدایات میں اصل میں کیا مراد ہے۔ سلامتی سے متعلق آیات کا بغور مطالعہ کیا جانا چاہیے تاکہ اس اصل نیت کو سمجھا جا سکے ورنہ بہت سے لوگوں کا رجحان ان احکامات کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کی طرف ہوتا ہے؛

4:83 وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں۔ اگر وہ اسے رسول اور اپنے میں سے صاحبِ امر (اربابِ اختیار) کی طرف لوٹاتے تو ان میں سے تحقیق کرنے والے ضرور اس (کے اصل نتیجے) کو جان لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند ایک کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے چل پڑتے۔

نیچے دی گئی آیات میں اللہ ان لوگوں کو بے نقاب کرتا ہے جو دراصل زمین پر فسادی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، حالانکہ وہ خود نہیں جانتے کہ وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ امن کی وہ فطری خواہش جو اللہ نے بنی نوع انسان میں پیدا کی ہے، وہ اسے غلط ثابت کرتے ہیں بغیر یہ سمجھے کہ وہ غلط کر رہے ہیں۔ ان کے دلوں میں تشدد کی محبت کو ایک بیماری قرار دیا گیا ہے اور اللہ کی آیات ان کی بیماری میں اضافہ کرتی ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر جارحیت نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو یہ ایک نیک مقصد کے لیے کر رہے ہیں۔

2:8-12 وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُم اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّما نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لا يَشْعُرُونَ

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ (حقیقت میں) مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، مگر وہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور (اس کا) شعور نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ اور جب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو کہتے ہیں کہ "ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں!” خبردار، یقیناً وہی فساد کرنے والے ہیں، لیکن وہ شعور نہیں رکھتے۔

جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ آیات 5:27-28 بیان کرتی ہیں کہ اللہ سے ڈرنے اور بچنے والوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی انہیں نقصان پہنچانے کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے تو وہ بدلے میں اسے نقصان پہنچانے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاتے۔ وہ اپنے بدلے کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

5:27-28 وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ

اور ان کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ حق کے ساتھ سناؤ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ (دوسرے نے) کہا "میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا۔” اس نے کہا "بے شک اللہ تو تقویٰ والوں ہی سے (قربانی) قبول فرماتا ہے۔” "اگر تم میری طرف مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاؤ گے تو میں تمہیں قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تمہاری طرف نہیں بڑھاؤں گا۔ بے شک میں رب العالمین اللہ سے ڈرتا ہوں۔”

قتل جیسا سنگین برا فعل مجرم کی نفسیات میں رہ جاتا ہے، اسے پریشان کرتا ہے اور انجام کار اس کی نفسیات کو تباہ کر دیتا ہے۔ برے کام کرنے والا شخص صاف ضمیر والے شخص کی طرح سکون سے نہیں رہ سکتا جسے روزانہ اپنے برے اعمال کے بدلے کے خوف میں نہیں جینا پڑتا۔ اگر انتخاب کی صورت ہو تو اس جگہ کو چھوڑ دینا ہمیشہ بہتر ہے جہاں کوئی آپ پر جسمانی نقصان پہنچانے کے لیے حملہ کرے۔

5:32 مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ

اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی نفس/جان کو بغیر کسی جان (کے بدلے) یا زمین میں فساد/تشدد کے قتل کیا، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔ اور جس نے کسی نفس/جان کو زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی۔ اور بلاشبہ ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے، پھر اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر زمین پر زیادتیاں کرنے والے ہیں۔

قرآن کی نظر میں انسانی زندگی بہت مقدس ہے۔ ایسے شخص کا جسمانی قتل جو زمین پر تشدد نہیں پھیلا رہا، ایک بہت بڑا بوجھ ہے جیسے پوری انسانیت کو قتل کرنا۔ یہ سختی سے منع ہے۔

میثاق (عہد):

اللہ کے عہد میں جسمانی لڑائی اور خونریزی کی اجازت نہیں ہے۔ یہ وہ عہد ہے جو اللہ نے بنی اسرائیل سے لیا ہے، یعنی ان لوگوں سے جو اللہ کی کتاب، ‘حکم’ اور ‘نبوت’ کو تھامے ہوئے ہیں۔

2:84 وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ تم اپنا خون نہ بہاؤ گے اور اپنے آپ کو اپنے حلقوں سے نہ نکالو گے، پھر تم نے اس کا اقرار کیا اور تم خود اس پر گواہ ہو۔

مندرجہ بالا آیات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قتال/لڑائی کے حوالے سے، اگر ہم اللہ سے ڈرتے ہیں، تو ہم جسمانی لڑائی میں شامل نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے پہلے سے عہد لیا تھا کہ ہم خون نہیں بہائیں گے۔ اس کے علاوہ 2:195 میں اللہ حکم دیتا ہے (لَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ) یعنی اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ ان شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں قتال/لڑائی کس طرح اور کس کے ساتھ کرنی ہے:

9:29 قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ

ا ان لوگوں سے لڑو جو الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے الله اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور سچے دین/فیصلہ  کے ساتھ فیصلہ نہیں کرتے ان لوگوں میں سے جنہیں الکتاب دیگئی ہے, یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

نظریاتی جنگ میں شامل ہونے کا اللہ کا حکم ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے۔ ہم جلد ہی نیچے دی گئی آیات میں دیکھیں گے کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے۔ یہ نظریاتی لڑائی اہل کتاب (صرف یہودی اور عیسائی کے لیبل والے نہیں) بلکہ ان لوگوں کے ساتھ کرنی ہے جن کے پاس کتاب (القرآن) ہے لیکن وہ حقیقت میں اللہ اور احتساب (آخرت) پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے حرام کردہ کاموں سے متعلق احکامات پر عمل نہیں کرتے۔ یہ آیت نظریاتی لڑائی کے بارے میں اس لیے ہے کہ اللہ لوگوں کو اپنی ذات (لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ / دین میں کوئی زبردستی نہیں) اور اپنے قوانین پر ایمان لانے کے لیے مجبور نہیں کرتا، نیچے آیت 10:99 دیکھیں۔

10:99 وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ ہیں وہ سب کے سب ایمان لے آتے! تو کیا آپ (اے رسول) لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ مومن ہو جائیں!

مندرجہ بالا آیت نہایت واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو زمین پر تمام لوگ مومن ہو جاتے۔ تاہم کسی کو زبر دستی اللہ پر ایمان لانے کے لیے مجبور کرنے کا کوئی منصوبہ اللہ کا نہیں ہے، اس لیے کافروں کے ساتھ لڑنے یا ان پر اسے مسلط کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

نیچے دی گئی آیت بیان کرتی ہے کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے:

6:151 قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

آپ کہیے: "آؤ، میں تمہیں وہ پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے:” یہ کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ؛ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو؛ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو؛ ہم تمہیں اور انہیں رزق دیتے ہیں؛ بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ؛ اور اس نفس/جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوائے حق کے؛ یہ وہ باتیں ہیں جن کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم اپنی عقل کو استعمال کرو۔

7:33 قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا و9َأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

کہہ دیجئے: میرے رب نے تو بے حیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو؛ اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی؛ اور یہ کہ تم اللہ کے بارے میں وہ باتیں کہو جن کا تمہیں علم نہیں۔

مندرجہ بالا آیات بتاتی ہیں کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے۔ 9:29 کے مطابق جس نظریاتی لڑائی کا حکم دیا گیا ہے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، بے حیائی کرتے ہیں، اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں جو قرآن سے تصدیق شدہ نہیں ہیں، اور ان جانوں کو قتل کرتے ہیں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے۔ اور یاد رکھیں، نظریاتی لڑائی ایک غیر جسمانی لڑائی ہے جس میں اپنا ہاتھ بڑھانے اور خون بہانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی اللہ کے اس پرامن پیغام کو مسترد کرتا ہے اور ان لوگوں کے حکم پر جسمانی لڑائی کرتا ہے جو دین میں نئے راستے (شریعت) بناتے ہیں اور ان احکامات کو ‘دین’ کا حصہ بنا کر پیش کرتے ہیں، تو اللہ کہتا ہے کہ اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ پھر پرامن اسلام کے امیج کو داغدار کر رہا ہوگا۔

61:7 وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَىٰ إِلَى الْإِسْلَامِ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام/امن کی طرف بلایا جا رہا ہو؟ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

جس شخص کو الاسلام (سلامتی) کی طرف بلایا جائے اور وہ اس دعوت کو جھٹلائے اور اس کے بجائے جارحیت کا راستہ اختیار کرے، تو مندرجہ بالا آیت کے مطابق اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہو سکتا۔

اللہ مومنوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ مکمل طور پر امن اور سلامتی میں داخل ہو جائیں اور شیطان کی پیروی نہ کریں، کیونکہ شیطان ان کے درمیان دشمنی کے بیج بونے کی کوشش کرتا ہے۔

2:208 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

اے ایمان والو! سلامتی میں مکمل طور پر داخل ہو جاؤ؛ اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

زندگی کی تمام صورتوں میں مومنوں کو امن اور سلامتی کے فیصلے/آپشن کا انتخاب کرنا ہے۔ امن کے علاوہ دیگر فیصلے اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہیں۔

3:85 وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

اور جو کوئی اسلام/سلامتی کے علاوہ کسی اور دین/فیصلے کو تلاش کرے گا، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

یہی وہ آخرت کا گھر ہے جو ان مومنوں کے لیے بنایا گیا ہے جو زمین پر تشدد اور جنگ و جدل نہیں چاہتے۔

28:83 تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ

آخرت کا وہ گھر ہم ان لوگوں کو دیتے ہیں جو زمین میں نہ بڑائی (تسلط) چاہتے ہیں اور نہ فساد، اور انجام (بہترین ہے) پرہیزگاروں کے لیے۔

جو لوگ مومنوں کے سلامتی کے فیصلے/دین میں ان سے لڑتے ہیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے اور انہیں ایمان کے حلقوں سے باہر نکال دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی نکالنے پر اکساتے ہیں، مومنوں کو ایسے لوگوں کو اپنا سرپرست/نگہبان بنانے سے روک دیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو مومنوں کو ان کے ایمان کے حلقوں سے باہر نہیں نکالتے (اگر ان کے عقائد مختلف ہوں تو انہیں کافر قرار نہیں دیتے)، اللہ مومنوں کو ان کے ساتھ بھلائی کرنے سے نہیں روکتا۔

60:8-9 لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

اللہ تمہیں ان لوگوں کے بارے میں نہیں روکتا جنہوں نے تم سے (دین کے معاملے میں) لڑائی نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے حلقوں سے نکالا کہ تم ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تمہیں صرف ان لوگوں سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین/فیصلے میں لڑائی کی، اور تمہیں تمہارے حلقوں سے نکالا، اور نکالنے میں (دوسروں کی) مدد کی، کہ تم ان سے دوستی/سرپرستی کرو۔ جو ان سے دوستی کرے گا، وہی ظالم لوگ ہیں۔

اللہ زمین پر تشدد اور خونریزی کی اجازت نہیں دیتا۔ مجرم زمین پر تشدد، جارحیت اور خونریزی کرتے ہیں۔ اللہ پوچھ رہا ہے کہ کیا وہ ان مجرموں کو ان لوگوں کے برابر کر دے گا جو اسلام کے پرامن پیغام پر یقین رکھتے ہیں۔

28:38 أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان جیسا کر دیں گے جو زمین میں فساد/تشدد/خرابی کرنے والے ہیں؟ کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دیں گے؟

68:35 أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ

کیا ہم مسلمانوں/سرِ تسلیم خم کرنے والوں کو مجرموں جیسا کر دیں گے؟

وہ درحقیقت دنیا کی نظر میں مسلمانوں (اللہ کی مرضی کے آگے سر جھکانے والوں) کا امیج داغدار کرتے ہیں اور ‘جہاد’ کے نام پر زمین پر تشدد اور خونریزی کا حکم دیتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ وہ اللہ کی کتاب سے حکم نہیں لیتے، جو خونریزی کی اجازت نہیں دیتی، بلکہ وہ دوسری کتابوں اور سرپرستوں سے حکم لیتے ہیں، اور ان لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ وہ خود فسادی ہیں۔ وہ ساتھیوں/شریک ٹھہرانے والوں کے ذریعے گمراہ ہوئے ہیں۔

68:36-41 مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۙ إِنَ13ّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَ14عِيمٌ أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ فَل15ْيَأْتُوا بِشُرَكَائِهِمْ إِن كَانُوا صَادِقِينَ

تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟ یا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم سبق لیتے ہو؟ کہ اس میں (دوسری کتاب میں) تمہیں وہ کچھ مل جائے گا جو تم پسند کرو؟ یا تمہارے لیے ہم پر قیامت کے دن تک پہنچنے والی کوئی قسمیں (عہد) ہیں کہ تمہیں وہی ملے گا جو تم فیصلہ کرو گے؟ ان سے پوچھو ان میں سے کون اس کا ضامن ہے! یا ان کے کچھ "شریک” (اللہ کے ساتھ) ہیں؟ تو وہ اپنے "شریکوں” کو لائیں اگر وہ سچے ہیں!

ان کے شریک (اللہ کے ساتھ) تشدد کے احکامات دیتے ہیں اور ان احکامات کو ‘شریعت’ اور ‘جہاد’ کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ شریک وہ ہیں جو ‘شریعت’ بناتے ہیں یعنی شریعت/فقہ کی کتابیں لکھتے ہیں۔

42:21 أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں راستے (شریعت) مقرر کر دیے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟ اور اگر فیصلے کی بات (پہلے سے طے) نہ ہوتی تو ان کے درمیان (فورا) فیصلہ کر دیا جاتا۔ اور یقیناً ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

‘مشرکین’ وہ ہیں جو اللہ کے احکامات کی بھی پیروی کرتے ہیں اور دوسروں کے احکامات کی بھی (6:137)۔ شریک/شرکاء وہ ہیں جو ان کے لیے ‘شریعت’ بناتے ہیں (42:21)۔ ان ‘شرکاء’ نے انہیں جنگ کرنے اور زمین پر تشدد کرنے کا حکم دیا ہے اور انہوں نے ان احکامات کو ‘دین/فیصلہ’ قرار دیا ہے تاکہ یہ ایک مقدس جنگ کے طور پر ظاہر ہو اور اس مقصد کے لیے مرنے کو لوگوں کے لیے پرکشش بنا سکیں۔

6:137 وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں (اللہ کے ساتھ، جو احکامات/فتوے جاری کرتے ہیں) نے اپنی اولاد کو قتل کرنا خوشنما بنا دیا ہے تاکہ انہیں ہلاک کر دیں اور ان کے لیے ان کے دین/فیصلے کو مشتبہ بنا دیں۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے؛ پس تم انہیں اور ان کے افترا (من گھڑت باتوں) کو چھوڑ دو۔

پھر اللہ نیچے دی گئی آیت میں ان لوگوں کی خصوصیات بیان کرتا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ مومن ہیں لیکن دراصل وہ شیطان سے تشدد کے احکامات لیتے ہیں۔

4:60 أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيد الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو فخر کے ساتھ یہ دعویٰ (گمان) کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لائے جو آپ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا؟ ان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ فیصلے کے لیے ‘طاغوت’ (سرکش/پر تشدد) کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اس کا انکار کریں۔ لیکن شیطان کا ارادہ یہ ہے کہ انہیں بہت دور کی گمراہی میں ڈال دے۔

مندرجہ بالا آیت بتاتی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کردہ وحی پر یقین رکھتے ہیں، تاہم، وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ ان کا فیصلہ کرنے والا ‘طاغوت’ ہو، اور حقیقت میں انہیں ‘طاغوت’ کو مسترد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لفظ ‘طاغوت’ ‘طغیٰ’ سے نکلا ہے اور اس کے بنیادی معنی حد پار کرنا، سرکشی اور پرتشدد ناحق سختی کے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ پر نازل کردہ وحی پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ پرتشدد، سرکش ‘طاغوت’ کے فیصلے کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔

22:40 الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ21 وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِیزٌ

وہ لوگ جنہیں ان کے حلقوں سے ناحق نکالا گیا، صرف اس لیے کہ وہ کہتے تھے "ہمارا رب اللہ ہے”۔ اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع (دفاع) نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت خانے اور وہ مسجدیں مسمار کر دی جاتیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے۔ اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا جو اس کے (مقصد) میں مدد کرتے ہیں؛ بے شک اللہ بہت طاقتور، غالب ہے۔

وہ لوگ جو اللہ کو اپنا رب بناتے ہیں (وہ اللہ کے سوا کسی اور سے ہدایات اور احکامات نہیں لیتے)، ان سے وہ لوگ نفرت کرتے ہیں جو تشدد اور جنگ پسندی پر تلے ہوئے ہیں، اور کافر انہیں ان کے ایمان کے حلقوں سے باہر نکال دیتے ہیں۔ کافر انہیں ایک نکالے ہوئے طبقے کے طور پر لیبل کر دیتے ہیں۔ اگر اللہ دنیا کے لوگوں کو ان پرتشدد لوگوں سے نہ بچاتا تو دنیا میں بڑی تباہی مچ جاتی۔ پرتشدد لوگ اور دہشت گرد لوگوں کو ان کی عبادت گاہوں اور مسجدوں میں جانے تک نہ چھوڑتے، وہ وہاں بھی ان پر بمباری کرنے کی کوشش کرتے۔

2:204-205 وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جس کی گفتگو دنیاوی زندگی میں آپ کو بڑی اچھی لگتی ہے اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ (درحقیقت) سخت ترین جھگڑالو (شخص) ہے۔ اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے (یا اقتدار میں آتا ہے) تو زمین میں اس لیے دوڑ دھوپ کرتا ہے کہ اس میں فساد/تشدد برپا کرے اور کھیتیوں/جائیداد اور جانوں کو تباہ کر دے، اور اللہ فساد/تشدد کو پسند نہیں کرتا۔

مندرجہ بالا آیات آپ کو خبردار کرتی ہیں کہ ایسے شخص سے ہوشیار رہیں جو لوگوں کے جذبات بھڑکانے اور انہیں عمل پر اکسانے کے لیے شاندار تقریریں کرتا ہے۔ وہ اللہ کی قسم کھائے گا اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بنائے گا، لیکن حقیقت میں وہ سخت جھگڑالو شخص ہوگا جو زمین پر قبضہ کرنے کی اپنی خواہش میں تشدد پھیلانے اور جائیداد اور جانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا۔

28:15-17 وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِ ۖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّه فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفورُ الرَّحِيمُ قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ

اور (موسیٰ) شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب وہاں کے لوگ بے خبر تھے، تو وہاں دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ ایک ان کے گروہ سے تھا اور دوسرا ان کے دشمن سے۔ تو جو ان کے گروہ سے تھا اس نے ان سے اپنے دشمن کے خلاف مدد مانگی۔ چنانچہ موسیٰ نے اسے گھونسا مارا جس سے اس کا کام تمام ہو گیا (اگرچہ غیر ارادی طور پر)۔ انہوں نے (موسیٰ نے) کہا "یہ شیطان کا کام ہے۔ بے شک وہ کھلا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔” انہوں نے کہا "اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے معاف فرما۔” تو اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔ بے شک وہی بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ اور انہوں نے (موسیٰ نے) کہا "اے میرے رب! اس کی بدولت جو تو نے مجھ پر انعام کیا، اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔”

مندرجہ بالا آیات حضرت موسیٰ (ع) سے متعلق ایک واقعے پر مبنی ہیں جس میں یہ سبق ہے کہ جب آپ کے فرقے کے لوگ آپ سے مدد مانگیں اور آپ کو دوسرے مخالف فرقے کے ساتھ جسمانی لڑائی میں جذباتی طور پر ملوث کرنے کی کوشش کریں، تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جسمانی لڑائی اور قتل کرنا شیطان کا کام ہے، لہذا کبھی بھی ان گروہوں کی پشت پناہی کرنے والے نہ بنیں۔

جہاد

لفظ ‘جہاد’ کے معنی کوشش یا جدوجہد کرنا ہیں۔ ‘جہاد’ وہ جدوجہد ہے جو القرآن کے ساتھ کی جاتی ہے۔ یہ یقیناً ایک عظیم جدوجہد ہے۔ ‘آخرت’ کی بھلائی ان لوگوں کے لیے ہے جو زمین پر تشدد اور سرکشی نہیں کرتے۔ لہٰذا مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف القرآن کے ساتھ ایک بڑی جدوجہد کریں جو زمین پر جارحیت کا حکم دیتے ہیں۔

اللہ چاہتا ہے کہ مومن اس کی کتاب کی روح کے مطابق کوششیں کریں تاکہ اللہ کی آیات کو سمجھیں، ان پر عمل کریں اور اس کا پیغام انسانیت تک پھیلائیں۔ عام طور پر غیر مسلم دنیا میں لفظ ‘جہاد’ کو جسمانی جنگ سمجھا جاتا ہے۔ ہم القرآن میں ‘جہاد’ سے متعلق آیات کا جائزہ لیں گے تاکہ اس کی نیت معلوم ہو سکے:

29:69 وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ

اور جن لوگوں نے ہمارے بارے میں ‘جہاد’ / جدوجہد کی، ہم انہیں ضرور اپنے راستے دکھائیں گے اور بے شک اللہ محسنین (نیکی کرنے والوں) کے ساتھ ہے۔

اللہ کی راہ میں کوشش / جہاد کرنے کا مطلب اللہ کی آیات پر عمل کرنا ہے۔ وہ لوگ جو ‘جہاد’ کرتے ہیں، اللہ میں (یعنی اللہ کی آیات میں) کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں، انہیں اللہ کی طرف سے رہنمائی ملتی ہے اور وہ ‘نیکی کرنے والے’ بن سکتے ہیں۔

5:35 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی طرف وسیلہ (ذریعہ) تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

اللہ اور اس کی خوشنودی کی طرف ‘وسیلہ’ اس کا وہ پیغام یعنی کتاب ہے جو انسانیت کو ان کی رہنمائی کے لیے دی گئی ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ مومن اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کریں اور اس کی راہوں میں جدوجہد کریں تاکہ وہ کامیابی حاصل کر سکیں۔

25:52 فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا

پس آپ کافروں کی اطاعت نہ کریں اور اس (یعنی القرآن) کے ذریعے ان کے خلاف جہاد کریں، یہ بڑا جہاد / جدوجہد ہے۔

بڑا جہاد ان لوگوں کے خلاف القرآن کے ساتھ جدوجہد کرنا ہے جو قرآن کی روح کو مسترد کرتے ہیں (یا اسے ایک گمراہ کن روح سے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں)۔

8:73 وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ

اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (یعنی اسلام/سلامتی کو مسترد کیا) وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اگر تم ایسا نہ کرو گے (یعنی ایک دوسرے کی حفاظت نہ کرو گے) تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد/تشدد ہو گا۔

وہ لوگ جو مخالف نظریہ رکھتے ہیں یعنی اللہ کے ‘امن و سلامتی‘ کے پیغام کو مسترد کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جہاد جسمانی جنگ ہے، اور وہ لوگوں کو جارحیت پر اکساتے ہیں، مومنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان منکروں کے خلاف اسلام کے پرامن پیغام کو پھیلانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ورنہ زمین پر بڑا ‘فساد’ / تشدد ہوگا۔

3:142 أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ

یا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ نہیں دیکھا (ظاہر نہیں کیا) کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں۔

اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا اور صبر کرنا ساتھ ساتھ چلتے ہیں، کیونکہ آپ کو مشرکین اور ان لوگوں کی طرف سے بہت سے تکلیف دہ الزامات سننے پڑیں گے جنہیں آپ سے پہلے کتاب دی گئی تھی لیکن وہ کتاب کی اصل روح کو سمجھے بغیر اسے پڑھ رہے تھے۔

3:186 لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ

تمہیں تمہارے مالوں اور تمہاری جانوں (نفسیات) میں ضرور آزمایا جائے گا؛ اور تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

9:20 الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ

وہ لوگ جو ایمان لائے، اور جنہوں نے ہجرت کی (عقیدے میں) اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں/نفسیات کے ساتھ جہاد کیا، اللہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا درجہ ہے۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت کی (عقیدے میں) اور اپنا مال خرچ کر کے اور اپنے ‘نفس’ پر قابو پا کر اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں، وہ اللہ کے ہاں بلند مقام پر فائز ہیں۔ پہلا قدم اللہ کی آیات پر ایمان لانا اور اپنے سابقہ ​​عقیدے کے نظام سے ہجرت کرنا ہے جو اللہ کی آیات کی روح حاصل کیے بغیر تھا۔ یہ عقیدے میں ہجرت ہے۔ ہجرت کے بعد لوگ قرآن کے ساتھ اپنے مال اور ‘نفس’ کے ذریعے جدوجہد کر سکتے ہیں۔

29:6 وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ

اور جو کوئی (اللہ کی راہ میں) جہاد کرتا ہے، تو وہ اپنے ہی نفس/ذات کے لیے جہاد کرتا ہے۔ بے شک اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔

جو بھی کوشش / جہاد کرتا ہے، وہ اپنے نفس کے لیے کرتا ہے، جبکہ اللہ کائنات میں کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔

22:78 وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ

اور تم اللہ میں جہاد کرو جیسا کہ اس میں جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب کیا ہے اور دین/فیصلے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی……

اوپر آیت 22:78 کا ایک حصہ ہے اور یہ اللہ کے ماننے والوں سے کہتی ہے کہ وہ اللہ میں (یعنی اللہ کی راہوں میں) جدوجہد کریں جیسا کہ یہ کوششیں کرنے کا حق ہے اور اللہ نے اس فیصلے میں کوئی (جسمانی) تنگی نہیں رکھی۔ اللہ نے ہم پر بہت سی نعمتیں نازل کی ہیں۔ اگر وہ ہمیں آزمانے کے لیے ایک بھی نعمت چھین لے تو ہم کتنی مصیبت میں آجاتے ہیں۔ کیا ہمارے لیے یہ درست نہیں ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کے معمولات میں سے کچھ وقت نکال کر اللہ اور اس کی آیات میں جدوجہد کریں؟ اس جدوجہد کو کرنے میں کوئی ‘حرج’ / جسمانی تنگی نہیں ہے۔

29:8 وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کی ہے، لیکن اگر وہ تیرے ساتھ اس بات پر جہاد / کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں، تو ان کی اطاعت نہ کر۔ تم سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے، پھر میں تمہیں وہ بتاؤں گا جو تم کیا کرتے تھے۔

اگر والدین آپ کے ساتھ اس بات پر جدوجہد کریں کہ اللہ اور اس کے احکامات میں کسی کو شریک ٹھہرائیں جس کے لیے اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، تو اس معاملے میں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ تاہم، اس معاملے کے علاوہ، والدین کے ساتھ ہمارا برتاؤ بہترین ہونا چاہیے۔

9:24 قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہارے جوڑے اور تمہارے قریبی رشتہ دار، اور وہ مال جو تم نے کمایا ہے اور وہ تجارت جس کے مندا ہونے کا تمہیں ڈر ہے اور وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ اور اللہ فاسق/بدکردار لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اگر آپ نے اللہ کی آیات کی روح کو پا لیا ہے، اور اگر اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے اور اس کا کلام پھیلانے سے آپ کا اپنے رشتہ داروں/برادری سے ٹکراؤ ہوتا ہے یا آپ کے کاروبار میں نقصان ہوتا ہے، اور یہ چیزیں آپ کو اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے اور اس کا پیغام پھیلانے سے روکتی ہیں، تو انتظار کریں یہاں تک کہ اللہ کے احکامات آجائیں۔ جو لوگ اللہ کے احکامات کے ساتھ آزادی لیتے ہیں، اللہ انہیں ہدایت نہیں دیتا۔

8:72 إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَٰئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَالَّذ36ِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُم مِّن وَلَايَتِهِم مِّن شَيْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا ۚ وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّين فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهم مِّيثَاقٌ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی (عقیدے میں) اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں/نفسیات کے ساتھ جہاد کیا، اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ اور وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی، تمہارے لیے ان کی حفاظت (کی ذمہ داری) کچھ نہیں جب تک کہ وہ ہجرت نہ کر لیں۔ اور اگر وہ آپ سے دین/فیصلے (یعنی اسلام/امن) میں مدد مانگیں تو آپ پر مدد کرنا لازم ہے، سوائے اس قوم کے خلاف جس کے اور تمہارے درمیان عہد ہو۔ اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھنے والا ہے۔

‘ہجرت’ بنیادی طور پر ایمان میں ہجرت ہے، جب آپ اس عقیدے سے ہجرت کرتے ہیں جو آپ کو اپنی برادری سے وراثت میں ملا ہے اس ایمان کی طرف جو اللہ کی آیات کے مطابق ہے۔ مومن اللہ کی راہوں میں جدوجہد کرتے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے پہلے ہجرت کی تھی وہ اس مقصد میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے ایمان میں ہجرت کی ہے، ان پر فرض ہے کہ وہ نئے ہجرت کرنے والے مومنوں کی حفاظت کریں کیونکہ ان کا عقیدہ تبدیل ہونے پر ان کی برادری ان کے خلاف ہو سکتی ے۔


تاہم، کچھ ممالک میں قانون آپ کو مذہبی عقائد کی تبلیغ کی اجازت نہیں دے سکتا، ان ممالک میں آپ کو ملک کے قانون کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔

8:60 وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا استَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

اورتم ان لوگوں کے لیے تیار کرو اورقوت سے اور گھوڑوں کی بندش سے (لگام دے کر) اورجس قدرتم استَطاعت رکھتے ہو, اس (قرآن ) سے الله کے دشمن اور تمہارے دشمن اور ان کےعلاوہ بھی دھشت ذدہ ہو جاتے ہیں, تم انہیں نہیں جانتے الله انہیں جانتا ہے اور جو کچھ بھی تم الله کی راہ میں خرچ کرو گے تمہاری طرف پوری طرح لوٹا دیا جائے گا اور تم پرظلم نہیں جائے کیا جائے گامیں جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

مومنوں کے دشمن دہشت گرد اور پرتشدد جنگ باز ہیں۔ لہذا، اللہ کا حکم یہ ہے کہ اپنے دشمنوں کو بڑی تیاریوں کے ساتھ خوفزدہ کریں تاکہ وہ آپ پر حملہ کرنے سے باز رہیں۔ انہیں تمام تیاریوں اور تحمل کے ساتھ اس طرح خوفزدہ کریں جیسے ایک سرکش گھوڑے کو لگام سے قابو کیا جاتا ہے، یعنی وقار، سکون اور استقامت کا مظاہرہ کرنا۔ ساز و سامان اور تربیت کے ساتھ تیار رہنے کے علاوہ تاکہ یہ کسی بھی دہشت گرد حملے کے خلاف رکاوٹ کے طور پر کام کرے، قرآن میں گہری تیاری کی ضرورت ہے تاکہ اللہ کی کتاب کی ان غلط تشریحات کا مقابلہ کیا جا سکے جو دہشت گرد گروہوں کے پرتشدد جذبات میں اضافہ کرتی ہیں (5:64)۔ اگر قرآن کی ان کی تمام پرتشدد تشریحات کا جواب قرآن کی حقیقی امن کی روح کے ساتھ دیا جائے تو پرتشدد گروہ آپ سے خوفزدہ ہو جائیں گے۔

4:75-76 وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَص1ِيرًا 2الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا

اور تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جو کہتے ہیں۔ "اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں؛ اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی ولی/محافظ/نگہبان مقرر فرما؛ اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار مقرر فرما۔"

جو لوگ ایمان لائے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو منکر ہیں وہ طاغوت/سرکشی/بغاوت کی راہ میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے سرپرستوں سے لڑو، یقیناً شیطان کی چال بہت کمزور ہے۔

اگر پرتشدد گروہ کسی خاص خطے پر کنٹرول حاصل کر لیں اور اس سرزمین پر اپنی حکمرانی قائم کر لیں تو وہ اپنی تشریح کے ظالمانہ قوانین کے ساتھ لوگوں پر ظلم کریں گے۔ اللہ پوچھتا ہے کہ مومن ان سے کیوں نہیں لڑتے تاکہ وہ اپنا گمراہ کن راستہ چھوڑ دیں۔ ماضی قریب میں، دنیا نے کمزور خواتین، بچوں اور مردوں پر ان پرتشدد گروہوں کے مظالم دیکھے ہیں جو تشدد اور جنگ و جدل کے مشترکہ نظریے کے حامل ہیں۔

مومن اللہ کی راہ میں یعنی امن و سلامتی کی راہ میں نظریاتی لڑائی لڑتے ہیں، اور اس اسلام/امن کے منکر زمین پر سرکشی اور جنگ و جدل پھیلانے کے لیے لڑتے ہیں۔

4:97-99 إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ3 سَبِيلًا فَأُولَٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ4 ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا5

بیشک جن لوگوں کی جان فرشتے اس حال میں نکالتے ہیں کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے، وہ (فرشتے) کہتے ہیں۔ "تم کس حال میں تھے؟” وہ جواب دیتے ہیں "ہم زمین میں کمزور تھے۔” وہ (فرشتے) کہتے ہیں۔ "کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟” پس ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے! سوائے ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے جو نہ تو کوئی تدبیر کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی راستے سے واقف ہیں۔ پس امید ہے کہ اللہ انہیں معاف فرما دے اور اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔

جو لوگ کسی ایسی زمین میں پھنس گئے ہوں جو ظالم حکمرانوں کے قبضے میں ہو، تو اللہ نہیں چاہتا کہ لوگ اب بھی اسی زمین پر رہیں اور اپنی جانوں پر ظلم کریں۔ تمام زمین اللہ کی ہے اور زمین کے مظلوموں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے بہتر مستقبل اور امکانات کے لیے اس زمین سے نکلنے کی کوشش کریں۔ صرف وہی بہت کمزور لوگ جن کے پاس وسائل نہیں ہیں اور وہ ہجرت نہیں کر سکتے، اللہ کی طرف سے ہجرت نہ کرنے پر معاف کیے جا سکتے ہیں۔ قرآن میں اس کی مثال حضرت موسیٰ (ع) اور فرعون کی ہے۔ فرعون اپنی عوام کے ایک حصے پر ظلم کر رہا تھا۔ حضرت موسیٰ (ع) نے مظلوم لوگوں کو اس زمین سے ہجرت کرانے کی کوشش کی جس پر ان پر ظلم کیا جا رہا تھا۔ جب انہوں نے ہجرت کی تو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں اس زمین کا وارث بنا دیا اور ظالموں کو وہاں سے ہٹا دیا۔

4:84 فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنكِيلًا

 پس تو الله کی راہ میں لڑ, اس میں تجھے کوئ تکلیف نہیں سوائے تیرے نفس کے, اور مومنين کو ترغیب دلا, ممکن ہے کہ الله کافروں کی قوت بند کر دے اور الله قوت میں بہت شدید ہے اور سزا دینے میں بھی بہت شدید ہے۔

اللہ کی راہ میں لڑائی جسمانی لڑائی نہیں ہے، یہ نظریاتی لڑائی ہے۔ اس میں آپ کے نفس/نفسیات کے علاوہ کوئی تنگی نہیں ہے۔ اس نفسیاتی لڑائی میں مومن غالب رہیں گے کیونکہ انہیں صبر کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور منکر وہ ہیں جن کے پاس علم نہیں ہے (القرآن کی روح کا)۔

اللہ کی طرف سے ہدایت لڑنے کی ہے لیکن اپنے ہاتھ روک کر یعنی جسمانی لڑائی نہیں بلکہ نظریاتی لڑائی۔ اس نظریاتی جنگ کے لیے بہت زیادہ تیاری، استقامت اور تحمل کی ضرورت ہے۔

4:77 أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ ۗ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَن اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا

 کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنہیں کہا گیا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکواة/جواز دو پس جب ان پر قتال لکھ دیا گیا تب ان میں سے ایک فَريق لوگوں سے ایسا ڈرتا ہے جیسا الله کا ڈر ہو یا اس سے بھی شدید ڈر, اور کہنے لگے اے ہمارے رب  تو نے ہم پر قتال کیوں لکھ دیا کیوں نہیں ہمیں تھوڑی مدت کی مہلت دی, کہہ دے دنیا کی متاع/سامان قليل ہے اور آخرت بہتر ہے اس کے لیے جو تقوی اختیار کرے اور تم پر تاگے برابر بھی ظلَم نہیں کیا جائے گا۔”

اللہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تاکہ اللہ کی آیات کی سمجھ میں اضافہ ہو، اس کے بعد وہ لڑائی کر سکتے ہیں۔ لیکن ہاتھ روکنے کا حکم ختم نہیں کیا گیا۔ انہیں جسمانی لڑائی نہیں بلکہ نظریاتی لڑائی کرنی ہے۔ اپوزیشن مضبوط ہے جس کے پاس صدیوں سے ان کے ہم خیال لوگوں کا جمع کردہ بہت بڑا اسلحہ اور سامان ہے۔ لہذا، ان کے ساتھ لڑنا آسان نہیں ہے، تاہم، اللہ پھر بھی چاہتا ہے کہ مومن الصلاۃ قائم کرنے کے بعد ان سے لڑیں جس سے اللہ کی کتاب کی سمجھ میں اضافہ ہونا چاہیے۔

9:111 إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعظِيمُ

بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں، (بدلے میں) ان کے لیے جنت ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو وہ (اپنے نفس کو) قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں (اپنے نفس کے ساتھ)۔ یہ اللہ کے ذمہ سچا وعدہ ہے تورات، انجیل اور قرآن میں۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس اپنے اس سودے پر خوشیاں مناؤ جو تم نے اس سے کیا ہے، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا اللہ کی راہ میں لڑنا جسمانی لڑائی نہیں ہے کیونکہ اللہ ان لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے کے بعد قتل ہو جاتے ہیں- یہی بات ہم اگے چل کر سورہ محمد کی ایت چار سے چھ میں پڑھیں گے ۔ ‘نفس’ کو مارنے کے لیے آپ کو اللہ کی کتاب کی گہری سمجھ کی ضرورت ہے تاکہ نفس خواہشات سے پاک ہو جائے۔ اس کے بعد ان کا ‘نفس’ اللہ خرید لیتا ہے اور پھر وہ گمراہ کن اور پرتشدد فلسفوں کے ماننے والوں سے نظریاتی طور پر لڑ سکتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے کہ اس سودے پر خوش رہو اور جشن مناؤ جو اللہ سے کیا گیا ہے۔ خوشی اور جشن اس زندگی سے آتا ہے جو اللہ کے خریدے جانے کے بعد ‘نفس’ کو دی گئی ہے۔ خوشی اور جشن زمین پر تشدد اور خونریزی پھیلانے سے نہیں آتا۔

6:122 أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

اور کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندگی دی اور اس کے لیے ایک نور بنا دیا جس کے ذریعے وہ لوگوں میں چلتا ہے؛ کیا وہ اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو، جس سے وہ کبھی نہیں نکل سکتا؟ اسی طرح کافروں/منکروں کے لیے ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔

خدا کی نظر میں مردہ اور زندہ وہ نہیں جو ہم سمجھتے ہیں۔ خدا کی نظر میں مردہ وہ ہیں جو جسمانی طور پر زندہ تو ہوں لیکن ان میں اللہ کی کتاب کی سمجھ کا نور نہ ہو۔ اللہ جسے چاہتا ہے، مردہ ‘نفس’ کو زندگی دینے کے لیے ہدایت دے سکتا ہے۔

3:179 وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پاتے ہیں۔

جن لوگوں کا ‘نفس’ اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہے وہ اللہ کے قرب سے اپنا رزق پاتے ہیں۔

9:33 هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین (فیصلے) کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام (دوسرے متبادل) فیصلوں پر غالب کر دے، چاہے مشرک اسے ناپسند ہی کریں۔

القرآن کی رہنمائی کے مطابق ایک دین/فیصلہ ہے اور پھر دنیا کی دیگر مذہبی کتابوں کے مطابق متبادل فیصلے ہیں۔ لہذا، اللہ اپنے رسول کو اس لیے بھیجتا ہے تاکہ وہ قرآن کے مطابق فیصلے کو واضح کرے اور ان تمام دیگر فیصلوں پر غالب کر دے جو لوگ اپنی زندگی میں پیش آنے والے حالات کے مطابق لے سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو مذہبی معاملات میں اللہ سے بھی حکم لیتے ہیں اور دوسروں سے بھی حکم لیتے ہیں، وہ مشرکین ہیں۔ وہ رسول کے اعلان کردہ دین/فیصلے سے خوش ہونے والے نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے، قرآن (12:106) کے مطابق اللہ پر ایمان رکھنے والے اکثر لوگ شاید نادانستہ طور پر مشرک بھی ہیں۔ یہ مشرکین قیامت کے دن اللہ سے بحث کریں گے کہ وہ مشرک نہیں تھے (6:123 ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ، ترجمہ: پھر ان کا کوئی فتنہ/عذر نہ ہوگا سوائے اس کے کہ کہیں گے، "اللہ کی قسم، اے ہمارے رب، ہم شرک کرنے والے نہ تھے”)۔

رسول یہاں لوگوں پر سچائی کا فیصلہ مسلط کرنے کے لیے نہیں ہے کیونکہ اس کا فرض صرف پہنچانا ہے تاکہ لوگ خود اپنا فیصلہ کر سکیں۔ رسول صرف یہ دکھائے گا کہ قرآن کا فیصلہ تمام دوسرے فیصلوں سے برتر ہے۔ چونکہ مشرکوں اور ان کے متبادل فیصلوں کے ذرائع کی تعداد کافی زیادہ ہے، اس لیے ایک نبی کو مومنوں کو ان کے ساتھ نظریاتی مقابلے کے لیے تیار کرنا پڑتا ہے۔

8:65-66 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْن اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ

اے نبی! مومنوں کو لڑائی پر ابھاریں۔ اگر تم میں سے بیس صابر ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ اگر سو ہوں گے تو کافروں کے ایک ہزار پر غالب آئیں گے۔ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تمہارا (بوجھ) ہلکا کر دیا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ لیکن ، اگر تم میں سے سو صبر کرنے والے اور استقامت والے ہوں گے، تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے، اور اگر ایک ہزار ہوں گے، تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آئیں گے۔ کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

ایک مثال پر غور کریں؛ ‘آپ 10 کلومیٹر تک جاگنگ کر سکتے ہیں، تاہم، چونکہ آپ اب شروع کر رہے ہیں، اس لیے اس وقت آپ کا اسٹیمنا نشان کم ہے، اس لیے شروع میں، آپ 2 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکیں گے اور اگر آپ مشق جاری رکھیں گے تو آپ اپنی 10 کلومیٹر کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔’ جیسے جیسے مومن کا ایمان بڑھتا ہے اور القرآن کی روح ان کے قرآن کی فہم میں اضافہ کرتی ہے، وہ منکروں کے خلاف اپنی نظریاتی لڑائی میں ان کی قرآن کی تشریح کا زیادہ سے زیادہ مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آیات 8:55:56 میں اپنے حریف پر غالب آنے والے مومنوں کی تفصیل کے لیے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ ‘صابر’ ہیں۔ اگر اس کا مطلب جسمانی لڑائی ہوتا تو لڑنے والے مومنوں کے لیے ہم جس حوصلہ افزا لفظ کی توقع کر سکتے تھے وہ ‘بہادر’ / شجاع ہوتا، تاہم، قرآن اس کے بجائے لفظ ‘الصَّابِرِينَ’ یعنی صبر کرنے والے استعمال کرتا ہے۔ لفظ ‘بہادری/شجاعت’ جو عام طور پر جسمانی جنگ سے منسلک ہوتا ہے، قرآن میں ایک بار بھی استعمال نہیں ہوا ہے۔

جنگ/’حرب’

قرآن میں اللہ اور رسول کے ساتھ ‘حرب’/جنگ کا واحد اعلان ان مومنوں کے خلاف ہے جو ‘ربا’/اضافے (سود) سے باز نہیں آتے۔ ‘ربا’ ایک ایسا اضافہ ہے جو آپ اللہ کا واجب الادا حصہ ادا نہ کر کے اپنی دولت میں کرتے ہیں۔ القرآن میں جنگ کا اعلان کفار اور منکروں کے ساتھ نہیں ہے۔

2:278-279 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور جو کچھ ربا/اضافے (سود) میں سے باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ پھر اگر تم ایسا نہیں کرو گے (جو کچھ ربا میں سے باقی ہے اسے نہیں چھوڑو گے)، تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ اور اگر تم توبہ کر لو، تو تمہارے لیے تمہارے مالوں کے اصل (راس المال) ہیں۔ تم ظلم نہ کرو اور تم پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

جب مومن ان لوگوں سے ملتے ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، تو حکم ان کی گردنوں پر ضرب لگانے کا ہے۔ گردنیں وہ جگہ ہیں جہاں ورچول طوق لگے ہوتے ہیں۔ لہذا ضرب ان کی گردنوں سے طوق چھڑانے کے لیے ہے۔ جب وہ مغلوب ہو جائیں تو بندھنوں کو مضبوط کر دیا جائے اور اس کے بعد یا تو معاوضہ لیا جائے یا ان پر سخاوت دکھائی جائے۔

47:4 فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ

جب تم ان لوگوں سے ملو جنہوں نے (ایمان کا) انکار کیا، تو گردنوں پر ضرب لگاؤ؛ یہاں تک کہ جب تم نے انہیں اچھی طرح مغلوب کر لیا ہو، تو بندھن کو مضبوط کر دو۔ اس کے بعد یا تو احسان کرو یا معاوضہ لو یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار (بوجھ) ڈال دے۔ یہ (حکم ہے)، لیکن اگر اللہ چاہتا تو وہ خود ان سے (سزا دے کر) بدلہ لے لیتا؛ لیکن تاکہ تم میں سے ایک کو دوسرے سے آزمائے۔ لیکن جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، وہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دے گا۔

جو لوگ رب کی راہ میں مارے جاتے ہیں، اللہ مطلع فرماتا ہے کہ وہ جلد ہی ان کی رہنمائی کرے گا اور ان کی حالت درست اور بہتر کرے گا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جسمانی موت اور لڑائی نہیں ہے جس کا یہاں ذکر کیا جا رہا تھا۔ کسی شخص کی موت کے بعد اس کی رہنمائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ جسمانی موت کے بعد صرف احتساب ہوتا ہے رہنمائی نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت 47:4 جسمانی جنگ کے بارے میں نہیں ہے۔

47:5-6 سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ

جلد ہی وہ ان کی رہنمائی کرے گا اور ان کی حالت درست کر دے گا اور انہیں اس جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انہیں پہچان کرائی ہے۔

8:67-71 مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ لَّوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّمَن فِي أَيْدِيكُم مِّنَ الْأَسْرَىٰ إِن يَعلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّا أخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ وَإِن يُرِيدُوا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللَّهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اس کے پاس ‘اسراء’/قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح بے بس نہ کر دیا جائے۔ تم لوگ دنیا کا عارضی سامان چاہتے ہو؛ لیکن اللہ آخرت کا ارادہ رکھتا ہے۔ اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔

اگر اللہ کی طرف سے پہلے سے لکھا ہوا نہ ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا اس کی وجہ سے تم پر بڑا عذاب آتا۔ پس جو کچھ تم نے بچایا ہے اس سے کھاؤ، حلال اور پاکیزہ۔ لیکن اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے نبی! ‘اسراء’/قیدیوں سے کہہ دیں، "اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا، تو وہ تمہیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا جو تم سے لیا گیا ہے، اور تمہیں معاف کر دے گا، کیونکہ اللہ بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔” لیکن اگر وہ آپ کے خلاف خیانت کا ارادہ رکھتے ہیں، (اے نبی!)، تو وہ پہلے ہی اللہ کے ساتھ خیانت کر چکے ہیں، اور اس طرح اس نے انہیں وہیں رہنے دیا، اور اللہ علم اور حکمت والا ہے۔

مندرجہ بالا آیات میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک نبی صرف اس وقت ‘اسراء’/قیدی رکھ سکتا ہے جب وہ زمین میں پوری طرح مغلوب ہو جائے – ‘اسراء’ ایمان کی راہ میں قیدی ہیں۔ ‘مہاجرین’ کے برعکس جنہوں نے اپنے پچھلے عقیدے کے نظام سے اللہ اور رسول کی راہ میں پہلے ہی ہجرت کر لی ہے، ‘اسراء’ وہ ہیں جو اس راستے میں قیدی ہیں، یعنی انہوں نے ابھی تک اپنے پرانے نظام عقیدہ کو چھوڑ کر ایمان میں مہاجرین کے نئے حلقے میں جانے کا قدم نہیں اٹھایا۔ سماجی، خاندانی اور دیگر ممنوعات انہیں ایمان کے نئے حلقے کو اپنانے سے روکتی ہیں۔ اگرچہ وہ اللہ کی آیات کی روشنی میں مومنوں کے ساتھ نظریاتی لڑائی میں مکمل طور پر شکست کھا چکے ہیں اور ان کا سابقہ ​​نظام عقیدہ تباہ ہو چکا ہے (اس سیریز کی پچھلی پوسٹ میں آیت 47:4 دیکھیں)۔ اسراء/قیدی اپنے نفس/نفسیات کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے، تاہم، وہ مالی تعاون کے ساتھ اللہ کے رسول کے مقصد کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔

21:107 وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

ہم نے (رسول کو) نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔

آیت 8:67 کا ترجمہ بعض لوگوں نے یہ کیا ہے کہ اللہ کا نبی اس وقت تک قیدی نہیں بنا سکتا جب تک وہ زمین پر بہت زیادہ خونریزی نہ کرے۔ اللہ کے نبی کا بنی نوع انسان کا بہت زیادہ خون بہانے کا تصور اللہ کے اس فیصلے کے خلاف ہے کہ اس نے اسے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ چنانچہ اللہ کے ایک نبی کا تصور کرنا، دشمنوں کا مکمل صفایا کرنا اور زمین پر خون بہانا نہایت مکروہ ہے۔ نبی تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے نہ کہ صرف اپنی پارٹی کے لیے۔ وہ صرف ان لوگوں پر سختی دکھاتا ہے جو اللہ کی آیات کی مدد سے سیدھا راستہ دکھائے جانے کے باوجود اپنے رسمی عقیدے پر قائم رہتے ہیں اور کفر میں بڑھ جاتے ہیں۔ اس وقت بھی یہ نظریاتی بحث میں سختی ہے جسمانی لڑائی نہیں۔

2:30 وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ26

اورجب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں خَليفَہ بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا کیا تواس میں ایسے کو بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خون بہائے حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں فرمایا میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔”

زمین پر اللہ کا ‘خلیفہ’/نائب خون نہیں بہاتا اور زمین پر تشدد نہیں کرتا۔ اللہ کے نبیوں کے بارے میں ایسی من گھڑت کہانیاں منسوب کرنا بہت بڑی غلط فہمی ہے۔

5:33-34 إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيم

یقیناً ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد/تشدد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ہے کہ وہ قتل کیے جائیں گے، یا سولی پر چڑھائے جائیں گے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں گے یا انہیں زمین سے جلاوطن کر دیا جائے گا۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ سوائے ان کے جو توبہ کر لیں اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پا لو، پھر جان لو کہ بیشک اللہ بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

جو لوگ دنیا میں جسمانی لڑائی، جنگ بازی اور فساد کر رہے ہیں، وہ اپنی پرتشدد سرگرمیوں کے نتیجے میں خود بخود مندرجہ بالا آیت میں مذکور حالتوں میں سے کسی ایک کا شکار ہو جائیں گے۔ سوائے ان کے جن پر مومن ان کے غلط طریقے دکھا کر اصلاح کرنے قابل تھے اور پھر انہوں نے توبہ کی۔ یہ کوئی ایسی سزا نہیں ہے جس کے بارے میں اللہ نے مومنوں سے کہا ہو کہ وہ ان پر مسلط کریں۔ اس کے علاوہ، براہ کرم نوٹ کریں کہ قرآن میں اللہ اور رسولوں کی طرف سے جنگ/حرب کا صرف ایک اعلان ہے، اور وہ صرف ان مومنوں کے ساتھ ہے جو ربا/اضافہ کھانے سے باز نہیں آتے اور شیطان نے ان پر اس طرح اثر ڈالا ہے کہ وہ اپنی ظاہری شکل میں مضحکہ خیز لگتے ہیں 2:275 الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ۔

9:107 وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَىٰ ۖ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ31

اور وہ لوگ  (منافقوں نے) جنہوں نے ایک مسجد کو نقصان پہنچانے اور (امن کا) انکار کرنے اور مومنوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے لیے، گھات لگانے کی جگہ (گوریلا جنگ) کے طور پر اختیار کیا ہے، ان لوگوں ( یہود)کے لیے جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسرپیکار رہے ہیں، اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا ارادہ بھلائی کے سوا کچھ نہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ قطعی جھوٹے ہیں۔

ان لوگوں نے اپنی نقصان دہ سرگرمیوں اور گھات لگانے اور گوریلا جنگ کی فوجی حکمت عملی کے لیے ایک مسجد کو علامت بنایا اور اختیار کیا ہے ان لوگوں کے لیے جو پہلے سے اللہ اور رسول کے ساتھ برسرپیکار رہے ہیں (اللہ اور رسول کے اعلان جنگ کو یاد رکھیں)۔ ان کی سرگرمیاں نقصان اور امن کے انکار اور مومنوں کے درمیان تقسیم کا باعث بنتی ہیں، حالانکہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ ان کا ارادہ بھلائی کے سوا کچھ نہیں۔

5:64 وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ۚ وَأَلْقَيْنَا بَينَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامةِ ۚ كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ ۚ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا ۚ وَاللَّهُ لَا يُحبُّ الْمُفْسِدِينَ

اور یہود کہتے ہیں کہ "اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے”۔ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان پر اس وجہ سے لعنت کی گئی ہے جو انہوں نے کہا ہے، بلکہ اس کے (اللہ کے) دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے، اور جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے اکثریت کو سرکشی (یعنی ناحق سختی، ظلم) اور انکار میں ضرور بڑھا دے گا۔ ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور بغض ڈال دیا ہے۔ جب کبھی وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں، اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور وہ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

قرآن کے مطابق ‘یہود’ کی شناخت کے لیے ہمیں ان شناختی علامات سے پہچاننا ہو گا جو قرآن نے ان لوگوں کے لیے دی ہیں۔ ہم ان لیبلوں سے شناخت نہیں کر سکتے جو لوگ اپنے اوپر لگاتے ہیں۔ قرآن میں ‘یہود’ کی شناختی علامات وہ ہیں جو مختلف عقیدہ کے نظام کے لیے کوئی رواداری نہ رکھنے والے بنیاد پرست قسم کے عقیدہ کے حامل ہیں۔ یہ لوگ تمام مذاہب کی الٹرا آرتھوڈوکس شکل میں پائے جا سکتے ہیں اور وہ جنگ کے شعلے بھڑکاتے ہیں جنہیں اللہ بجھا دیتا ہے۔

47:20 وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لهُمْ

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے کوئی سورت کیوں نہیں نازل ہوئی? پس جب کوئی محكم سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا تو جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے تو وہ تیری طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو پس ایسے لوگوں کے لیے تباہی ہے

مومن جو پرامن لوگ ہیں، دعا کرتے ہیں کہ اللہ الکتاب میں (نظریاتی) لڑائی کے حقیقی معنی ظاہر کر دے۔ جب قرآن کی ‘سورتوں’ سے قتال/لڑائی (نظریاتی لڑائی) کے حقیقی معنی واضح ہو جاتے ہیں، تو جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے (دلوں میں بیماری والے لوگوں کے لیے 2:8:12 دیکھیں، وہ لوگ ہیں جو زمین میں تشدد/جنگ چھیڑنا پسند کرتے ہیں اور انہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ خود جارح ہیں)۔ یہ لوگ قتال کی آیات کی اس وضاحت کو پسند نہیں کرتے، جو ان کے جارحانہ جذبات کے خلاف ہے اور ان کے چہروں پر موت جیسی خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں، جو حقیقت میں ان کے لیے زیادہ مناسب ہے کیونکہ وہ تشدد کو پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے مرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

47:21 طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ

حکم ماننا اور نیک بات کہنا (لازم ہے) پس جب بات قرار پا جائے تو اگر وہ الله سے سچے رہے تو ان کے لیے بہتر ہے۔

اگر انہوں نے اللہ کے عہد کی اطاعت کی ہوتی اور اللہ کی کتاب کے مطابق سچ کہا ہوتا اور عزم پر قائم رہتے تو ان کے لیے بہت بہتر ہوتا۔

حرام مہینے اور ان مہینوں کے مضمرات:

9:5 فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتُوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

پس جب حرمت والے مہینے ختم ہو جائیں تو (اللہ کے ساتھ) شریک ٹھہرانے والوں سے لڑو جہاں بھی تم انہیں پاؤ اور انہیں پکڑو اور انہیں گھیر لو اور ہر گھات لگانے کی جگہ پر ان کے لیے بیٹھو۔ پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

اگر مندرجہ بالا آیت کا مطلب جسمانی لڑائی/قتل ہے، اور اگر مومن پہلے ہی مشرکوں کو قتل کر چکے ہوتے تو مشرکوں کو توبہ کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا موقع نہ ملتا کیونکہ آیت کا دوسرا حصہ ان کا راستہ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے اگر وہ ایسا کرتے ہیں۔ اگر یہ جسمانی لڑائی نہیں ہے تو سین یہ ہے کہ مقدس مہینے تیاری (قرآن کے مطالعہ کے ساتھ) کے لیے ہیں اور جب یہ چار مقدس مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کے ساتھ قرآن کے ذریعے جہاد اکبر (بڑی جدوجہد) کریں۔

9:122-125 وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهمْ يَحْذَرُونَ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافرُونَ

اور ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ مومنین سب کے سب کوچ کریں سو کیوں نہ نکلا ہر فرقے میں سے ایک حصہ تاکہ دین/فیصلہ میں سمجھ پیدا کریں اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آئیں تو ان کو خبردار کریں تاکہ وہ بچتے رہیں۔ اے ایمان والو! ان منکروں سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں، اور وہ تم میں سختی پائیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے کچھ کہتے ہیں۔ "تم میں سے کس کا ایمان اس نے بڑھا دیا ہے؟” جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان بڑھ گیا ہے اور وہ خوشیاں مناتے ہیں۔ لیکن جن کے دلوں میں بیماری ہے، یہ ان کی ناپاکی میں ناپاکی کا اضافہ کرے گی، اور وہ کفر کی حالت میں مریں گے۔

سورت توبہ (9) کے آخر کی یہ آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ کی راہ میں نکلنا، دین/فیصلے کے معاملات میں مطالعہ کے لیے وقف ہونے کے بارے میں ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ قرآن میں پہلے ہی آیت 2:8:12 میں بے نقاب ہو چکے ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم صرف اصلاح کر رہے ہیں، اور وہ خود نہیں جانتے کہ وہ جارح ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ مندرجہ بالا آیات کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ ان سے زمین پر جنگ چھیڑنے کا کہہ رہا ہے اور ان کے دلوں کی بیماری اور ناپاکی بڑھتی رہتی ہے۔ جیسے جیسے مومنوں پر قرآن میں اللہ کے امن کے ارادے ظاہر اور واضح ہوتے ہیں، ان کا ایمان بڑھتا ہے، لیکن تشدد پر تلے ہوئے لوگوں کا، ان کا کفر مخالف سمت میں بڑھتا ہے۔

3:156-8 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَّوْ كَانُوا عِندَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَٰلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ يُحْبِي وَيُمِيتُ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ وَلَئِن قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ وَلَئِن مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ

اے ایمان والو! ان منکروں کی طرح نہ ہونا جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں جب وہ زمین کا سفر کرتے ہیں یا لڑائی کے لیے نکلتے ہیں۔ "اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ ہی مارے جاتے۔” تاکہ اللہ اسے ان کے دلوں میں حسرت اور افسوس کا باعث بنا دے۔ اللہ ہی زندگی اور موت دیتا ہے، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اسے اچھی طرح دیکھتا ہے۔ اور اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ، تو اللہ کی طرف سے بخشش اور رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ اور اگر تم مر جاؤ یا مارے جاؤ؛ تم یقیناً اللہ ہی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے۔

وہ گروہ جو عوام میں ‘دین’/فیصلے کی فہم پیدا کرنے کے لیے نکلتا ہے، اس کے پاس ایک مشکل کام ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو قائل کرے جو یا تو اپنی فرقہ وارانہ تعلیمات میں سخت ہو چکے ہیں یا ان لوگوں کی اکثریت جن کے پاس علم کم اور جذبات زیادہ ہیں۔ اگر ان کی مہم میں ان کے ساتھ کوئی بدقسمتی پیش آتی ہے یا وہ مر جاتے ہیں، تو اللہ مومنوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں غلط باتیں نہ کہیں کیونکہ اللہ انہیں ان کی کوششوں کا بدلہ دے گا۔

تاریخ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے منسوب جنگیں:

کچھ لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ ہم سے پہلے کی پرانی نسلوں نے مقدس جنگیں کیوں کیں اور مذہب کے نام پر جنگ و جدل اور جسمانی لڑائی سے کیوں باز نہیں آئے۔ کیا یہ کوئی نئی بات ہے جو جسمانی لڑائی سے دور رہنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہے۔ اللہ مندرجہ بالا آیت میں یہی سوال پوچھتا ہے تاکہ موجودہ نسل (تمام ادوار میں) پچھلی نسل کی غلطیوں سے سیکھ سکے اور عبرت حاصل کر سکے۔

11:116 فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُولُو بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ

تم سے پہلے کی نسلوں میں ایسے صاحب بصیرت لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد/شرارت سے روکتے – سوائے ان چند لوگوں کے جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا؟ جن لوگوں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہیں لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھیں اور وہ مجرم تھے۔


آئیے ان آیات کا جائزہ لیں جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانے کی اسلامی تاریخ کی روایتی جنگوں یعنی بدر، احد اور حنین سے متعلق ہیں۔

2:26-27 إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كثِير ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْض ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان کرے۔ پس جو لوگ ایمان لائے وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے۔ رہے وہ جنہوں نے انکار کیا، تو وہ کہتے ہیں: اس مثال سے اللہ کا کیا ارادہ ہے؟ وہ اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے، لیکن وہ اس کے ذریعے کسی کو گمراہ نہیں ہونے دیتا سوائے فاسقوں/بدکاروں کے۔ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اس کی پختگی کے بعد توڑ دیتے ہیں، اور ان (رشتوں) کو کاٹ دیتے ہیں جنہیں جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے، اور زمین پر تشدد کرتے ہیں، وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

کئی بار ہم لوگوں کو مندرجہ بالا آیات کا ایک حصہ نقل کرتے ہوئے سنتے ہیں کہ اللہ قرآن کے ذریعے بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور ساتھ ہی بہت سے لوگ قرآن سے گمراہ بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن مندرجہ بالا آیات کے مطابق گمراہ صرف وہی ہوتے ہیں جو ‘فاسق’ (بدکار) ہیں۔ وہ فاسق جو اللہ کا عہد توڑتے ہیں۔ اللہ کا عہد نیچے دی گئی آیت 2:84 میں بیان کیا گیا ہے، جو دو ٹوک الفاظ میں بنی اسرائیل سے کہتا ہے کہ وہ جسمانی لڑائی کے ذریعے اپنا خون نہ بہائیں۔ قرآن میں لڑائی کی مثالیں زمین پر موجود جارحیت پسندوں کے ساتھ مومنوں کی نظریاتی جنگ کے لیے دی گئی ہیں۔ تاہم وہ لوگ جو مقدس جنگوں کے طور پر جسمانی لڑائی پر تلے ہوئے ہیں، وہ اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ اللہ کی طرف سے دی گئی لڑائی کی مثالیں نظریاتی جنگ کے لیے ہیں جس میں آپ کو خون بہانے سے روکا گیا ہے اور صرف منکروں کے نفس/نفسیات کو قتل کرنے (یعنی ان کے غلط نظریات کو ختم کرنے) کا کہا گیا ہے۔ جب وہ خون نہ بہانے کا عہد توڑتے ہیں تو وہ ‘فاسق’ بن جاتے ہیں جو القرآن سے گمراہ ہو کر مقدس جنگوں کی آڑ میں زمین پر تشدد اور خونریزی برپا کرتے ہیں۔

2:84 وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ تم اپنا خون نہیں بہاؤ گے اور اپنے نفسوں/اپنے آپ کو اپنے حلقوں (بستیوں) سے نہیں نکالو گے، پھر تم نے اقرار کیا اور تم اس پر گواہ ہو۔

اللہ نے کائنات میں اپنے قوانین تخلیق اور قائم کیے۔ اس نے انسانیت کے لیے دنیا میں پیروی کرنے کے لیے ضابطہ اخلاق بھیجا اور نوع انسانی کو اپنا ‘کلام’ سمجھانے کے لیے اپنے رسول اور انبیاء بھیجے۔ اللہ کے پیغام کے بارے میں علم حاصل کرنے کے بعد لوگوں نے آپس میں اختلاف کیا اور خود کو کئی مختلف مذاہب اور مکاتب فکر میں تقسیم کر لیا۔ بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا پیغام یہ ہے کہ وہ اچھے کام کریں اور دنیا میں پرامن زندگی گزاریں اور دنیا میں تشدد اور فتنہ و فساد میں مشغول نہ ہوں اور آخرت میں ان کے اعمال کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم، ایسے گمراہ مکاتب فکر پیدا ہوئے جنہوں نے طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے عقیدے کے نظام کو دوسروں پر مسلط کرنے کو ایک نیک عمل بنا کر پیش کیا۔ اللہ کے رسولوں کو بار بار بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو اللہ کے کلام کی طرف واپس آنے اور متبادل تعلیمات کو چھوڑنے کی ہدایت کریں۔

اللہ کی کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں لوگوں کی اکثریت صحیح راستے پر نہیں ہے کیونکہ اکثریت اللہ کی کتاب سے ہدایت نہیں لیتی۔ جو شخص کسی خاص مذہب اور مکتب فکر میں پیدا ہوتا ہے، وہ شروع میں اس ماحول کے نظریات اور عقائد کو قبول کرتا ہے جس میں وہ پیدا ہوا ہوتا ہے۔ پھر زندگی کے کسی موڑ پر اسے اللہ کی آیات/نشانیاں دکھائی جاتی ہیں۔ اگر وہ الٰہی پیغام کو قبول کر لیتا ہے، تو اللہ کے سیدھے راستے پر اس کا یہ سفر شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے ماحول کے لوگ اسے اپنے عقیدے کے نظام میں واپس چاہتے ہیں۔ وہ اپنی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن جب وہ کامیاب نہیں ہوتے تو وہ وہی کہتے ہیں جو اللہ نے آیات 2:141:142 میں بیان کیا ہے۔

ایک مومن کے اپنے پرانے عقیدے سے قرآن میں بیان کردہ ایمان کی طرف ‘ایمان میں ہجرت’ کا بڑا فیصلہ لینے اور اللہ کی طرف اپنا روحانی سفر جاری رکھنے کے بعد، مومن اپنے ایمان اور آیات کی روح کی سمجھ میں ترقی کرے گا۔ یہ منکروں کے ساتھ نظریاتی لڑائی میں مصروف ہوتے وقت ان کے ساتھ اس کے رویے میں ظاہر ہوگا۔

48:29 مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا9

محمد الله کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کفار پر ذیادہ شدید ہیں آپس میں رحم دل ہیں, تو انہیں دیکھے گا رکوع و سجود کرتے ہوئے, وہ الله سے فضل اور رضامندی ڈھونڈتے ہیں, ان کی شناخت ان کے چہروں/ذاتوں میں سجدوں کے اثرسے ہے, ان کی مثال تورات میں ہے اور انجیل میں ہے, ایسی ہے جیسے بیج بویا گیا اس نے اپنی کونپل نکالی پھر اس نےمضبوطی پکڑی پس وہ موٹی ہوئی پس وہ اپنے تنے کے اوپر سیدھی ہوئ, بیج بونے والےتعجب خیزہوئے اس لئے کہ الله اس کے ساتھ کفار کو غیض وغضب دلاتا ہے, جو لوگ ایمان لاتے ہیں اورصحیح عمل کرتے ہیں انسے الله کی مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ  ہے۔

اللہ کی طرف روحانی سفر کے ابتدائی مرحلے میں، ایک مومن دنیا میں خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے کیونکہ وہ اب اپنی قریبی برادری کے مذہبی عقائد سے تعلق نہیں رکھتا۔ وہ اپنے آس پاس کے مشرکوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں بھی سنتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابتدائی مراحل میں مومن کے پاس ان کے بہت سے سوالات کے جوابات نہ ہوں۔ یہ صورتحال اسے ذہنی دباؤ کی کیفیت میں لا سکتی ہے۔ اس وقت مومن کو غیبی تسلی ملتی ہے اور اللہ کافروں کے کلام کے مقابلے میں اللہ کے کلام کو بلند کرنے کے لیے مومن کی مدد کے لیے غیبی قوتیں بھیجتا ہے۔

9:40 إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اگر تم اس کی مدد نہ کرو گے تو اس کی الله نے مدد کی ہے جس وقت اسے کافروں نے نکالا تھا کہ وہ دو میں سے دوسرا تھا جب وہ دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا تو غم نہ کر بے شک الله ہمارے ساتھ ہے پس الله نے اس پر تسکین اتاری اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں جنہیں تم نے نہیں دیکھا اورکافروں کی بات کو پست کر دیا اور بات تو الله ہی کی بلند ہے اور الله زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

اپنے روحانی سفر کے شروع میں جب مومنوں کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ نظریاتی لڑائی میں کفر کے علمبرداروں کا مقابلہ کرنے کے لیے اتنے مضبوط نہیں ہیں، اللہ ان کی مدد کرتا ہے۔ بدر کا مطلب ہے ‘فوری یا مکمل’۔ نیچے دی گئی آیت مومنوں کے ایک ابتدائی مرحلے کی طرف اشارہ کر رہی ہے جب اللہ کی طرف سے ان کی مدد کی گئی اور انہیں منکروں پر فتح حاصل ہوئی۔

3:123 وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور اللہ نے بدر/فوراً/مکمل تمہاری مدد کی جب تم کمزور تھے؛ پس اللہ سے ڈرو؛ تاکہ تم شکر گزار بنو۔

جو لوگ جھوٹے عقائد اور توہمات میں پھنسے ہوئے ہیں اور خدا کے پیغام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے قابل نہیں ہیں، القرآن ان کی مثال ان لوگوں کے طور پر دیتا ہے جن کی گردنوں میں طوق پھنسے ہوئے ہیں۔ ‘بنان’ کا مطلب انگلیوں کے پورے، جمی ہوئی چیزیں اور گرفت بھی ہے۔ چنانچہ فرشتوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ان گردنوں پر ضرب لگائیں جہاں انہوں نے طوق جکڑ رکھے ہیں اور جھوٹ پر ان کی انگلیوں/گرفتوں پر بھی ضرب لگائیں جس پر منکر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ فرشتے مومنوں کو ان کے ایمان میں ثابت قدم رکھ کر اور کافروں کے عقیدے کے نظام کی بنیادوں پر ضرب لگا کر نظریاتی جنگ میں مومنوں کی مدد کرتے ہیں۔

8:12 إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا ۚ سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ

یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں کو وحی کی، "میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم مومنوں کو ثابت قدم رکھو۔ میں منکروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا، پس تم گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان میں سے تمام جمی ہوئی چیزوں/گرفتوں پر ضرب لگاؤ۔”

اس طرح اللہ کی طرف سے فوری اور بروقت مدد کے ساتھ، مومنوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور آیت 48:29 کے مطابق اللہ کی مشیت سے وہ روحانی طاقت حاصل کرتے رہتے ہیں۔ تاہم، آیات کی روح کی سمجھ حاصل کرنا فوری عمل نہیں ہے۔ یہ صرف اللہ کی مرضی سے آتا ہے، اور کچھ کے لیے اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے جو انہیں بے صبرا بنا سکتا ہے۔

20:114 فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا

پس الله بادشاہ حقیقی بلند مرتبے والا ہے اور تو قرآن کے لینے میں جلدی نہ کر جب تک اس کا اترنا پورا نہ ہوجائے اور کہہ اے میرے رب مجھے اور زیادہ علم دے

آیت 20:114 مومنوں کے لیے ایک یاد دہانی ہونی چاہیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی قرآن کی روح کے الہام مکمل ہونے سے پہلے اس کے ساتھ جلدی نہیں کر سکتے۔ لہذا ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ مومن اللہ کے مقرر کردہ وقت تک قرآن کی روح حاصل کرنے میں زبردستی کر سکیں۔

نیچے دی گئی آیات ایک اور مرحلے کے بارے میں بتاتی ہیں جب مومنوں نے کچھ فکری پختگی اور علم حاصل کر لیا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس مرحلے پر ان میں سے کچھ ضرورت سے زیادہ پراعتماد ہو جاتے ہیں اور یہ فرض کر لیتے ہیں کہ وہ نظریاتی لڑائی میں کسی بھی منکر کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ میں لوگوں کے سامنے اپنے علم کا مظاہرہ کرنے کی خواہش بھی ہوتی ہے تاکہ لوگوں کی تعریف حاصل کی جا سکے۔ انہیں کچھ ابتدائی کامیابیاں ملتی ہیں جو انہیں تھوڑا بڑھاوا دیتی ہیں، تاہم، اللہ کی روح کے بغیر آیات کی تفہیم میں زبردستی کرنا اپنی آواز کو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بلند کرنے کے مترادف ہے اور اس طرح، جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ آپس میں اختلاف کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں ایک کے بعد ایک مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

3:152-3 وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَليَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ ۗ وَاللَّهُ17 خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

اور اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے انہیں مغلوب کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے ہمت ہار دی اور حکم میں جھگڑا کیا، اور اس کے بعد نافرمانی کی جب اس نے تمہیں وہ دکھا دیا جس کی تم تمنا کرتے تھے۔ تم میں سے کچھ وہ ہیں جو دنیا چاہتے ہیں اور کچھ وہ جو آخرت کے طالب ہیں۔ پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے، اور یقیناً اس نے تمہیں معاف کر دیا، کیونکہ اللہ مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ جب تم چڑھے جا رہے تھے، کسی کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتے تھے، اور رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے پکار رہا تھا، تو اللہ نے تمہیں غم پر غم دیا تاکہ تم اس چیز پر غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل گئی اور نہ اس پر جو تم پر مصیبت پڑی، اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

مومن اللہ کےکلام کی روح کے لیے زبردستی نہیں کر سکتے اور جب وہ مناسب وقت سے پہلے آگے بڑھیں گے اور منکروں کے ساتھ نظریاتی لڑائی میں شامل ہوں گے، تو وہ شکست کھا جائیں گے۔ شکست کے بعد وہ غم کا سامنا کریں گے اور اپنے غم میں، ان کا ایک گروہ یہ سوچنا شروع کر سکتا ہے کہ اب تک کا یہ سارا روحانی سفر فضول اور شاید غلط بھی رہا ہو۔

3:154 ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّن بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَىٰ طَائِفَةً مِّنكُمْ ۖ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ۗ يُخْفُونَ فِي أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَاهُنَا ۗ قل لَّوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

پھر غم کے بعد اس نے تم پر سکون نازل کیا یعنی اونگھ جس نے تم میں سے ایک گروہ کو ڈھانپ لیا، جبکہ دوسرے گروہ کو اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی، وہ جہالت کی وجہ سے اللہ کے بارے میں ناحق گمان کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے۔ "کیا اس حکم میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے؟” آپ (رسول) ان سے کہہ دیں۔ "بیشک سارا اختیار اللہ ہی کے لیے ہے”۔ وہ اپنے نفس/نفسیات میں وہ چھپاتے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں "اگر اس حکم میں ہمارا کچھ بھی اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے”۔ آپ کہہ دیں۔ "اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے، تب بھی جن کے لیے لڑائی لکھی گئی تھی، وہ اپنے (قتل ہونے کے) مقامات کی طرف نکل آتے”؛ لیکن (یہ سب اس لیے تھا) کہ اللہ تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو تمہارے دلوں میں ہے اسے پاک کر دے، اور اللہ دلوں کے راز خوب جانتا ہے۔

نظریاتی لڑائی میں پریشانی اور شکست کے بعد، ان میں سے کچھ اپنے ایمان سے پہلے کے مفروضوں کی طرف چلے جاتے ہیں اور کچھ رسول پر شک کرنے لگتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اللہ کے احکامات کو سمجھنے میں انہیں کچھ چھوٹ ملنی چاہیے تھی۔ کچھ شک کرنے لگتے ہیں کہ ہمیں اس طرح کیوں لڑنا پڑا۔ اس مرحلے پر ان میں سے کچھ کو شیطان عارضی طور پر بہکانے میں کامیاب ہو گیا، تاہم اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔

3:155 إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ

تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ پھیری جب دو گروہ آپس میں ملے، تو شیطان نے انہیں ان کے بعض (برے) اعمال کی وجہ سے پھسلایا تھا اور یقیناً اللہ نے انہیں معاف کر دیا کیونکہ اللہ بخشنے والا، بردبار ہے۔

3:172 الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ

جن لوگوں نے زخم لگنے کے بعد اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہا؛ ان میں سے وہ لوگ جنہوں نے نیکی کی اور اللہ سے ڈرے، ان کے لیے بڑا اجر ہے؛-

عام طور پر جب کسی کو (مذہبی عقیدے سے متعلق) نفسیاتی چوٹ لگتی ہے تو یہ اسے گہرائی سے سوچنے اور اس عقیدے کے نظام پر سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے جو اسے بچپن سے سکھایا گیا ہے۔ وہ لوگ جو اللہ کی آیات سے سچائی کو پہچانتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کو لبیک کہتے ہیں اور اپنے عقیدے اور اپنے اعمال میں اصلاح کرتے ہیں، انہیں اللہ کی طرف سے بڑے انعامات ملیں گے۔

حنین

ابھی ایک اور مرحلہ آ سکتا ہے، جب مومنوں نے بہت زیادہ روحانی طاقت، علم اور پختگی حاصل کر لی ہو اور وہ اچھی تعداد میں بھی ہوں ۔ یہ چیز انہیں ضرورت سے زیادہ پراعتماد بنا دے اور وہ مخالفین کو ہلکا لیں گے، اس وقت انہیں اپنے مخالفین سے غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

9:25 لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ

یقیناً اللہ نے بہت سے مقامات پر تمہاری مدد کی ہے اور حنین کے دن بھی جب تمہاری کثرت نے تمہیں خوش کر دیا تھا، لیکن وہ تمہارے کسی کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

پھر ان کے ضرورت سے زیادہ اعتماد کی وجہ سے ہونے والی شکست کے بعد، اللہ ان کی مدد کرے گا اور منکروں کو سزا دے گا۔

9:26 ثُمَّ أَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ

 پھر الله نے اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر تسکین نازل فرمائی اور وہ فوجیں اتاریں کہ جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو عذاب دیا اور کافروں کا یہی بدلہ ہے

خلاصہ یہ کہ قران اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی بہترین سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور جو لڑائی اپ قران میں دیکھتے ہیں وہ نظریاتی جنگ ہے ان لوگوں کے خلاف جو زمین پہ فساد اور خون ریزی مچانا چاہتے ہی:

41:34 وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی۔ (بدی کا) جواب اس طریقے سے دو جو بہترین ہو، تو (تم دیکھو گے کہ) جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ تمہارا گہرا دوست بن گیا ہے۔


Notes:

ربا اور اللہ اور اس کے رسول کا ربا کھانے والوں کے خلاف ‘حرب/جنگ’ کا اعلان:

۔ ‘الربا’ وہ اضافہ ہے جو آپ قرآن میں بیان کردہ مقررہ ‘زکوٰۃ’ ادا نہ کر کے اپنے مال میں کرتے ہیں ربا ‘سود’ نہیں ہے۔ سود کے لیے عربی لفظ ‘فائدہ’ ہے۔ قرآن میں زکوٰۃ/صدقہ کا اطلاق صرف مومنین پر ہوتا ہے۔ وہ مومن جو اپنے مال سے مقررہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، انہیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رہنے کی وارننگ دی گئی ہے۔ قرآن میں جنگ کا یہ اعلان ان مومنوں کے خلاف ہے جو ربا/اضافہ کھاتے ہیں (آیات 2:278:9)۔

آیت 275 ان لوگوں کا ذکر کرتی ہے جو قرآن میں لفظ ‘ربا’ کو ایک ‘بیع/سودے’ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ سودا وہ چیز ہے جو دو فریقوں کے درمیان طے پاتی ہے۔ اللہ ان سودوں کے خلاف نہیں ہے جو لوگ تجارتی لین دین (بشمول بینک کے سودے) میں کرتے ہیں، بلکہ وہ ان لوگوں کے خلاف ہے جو مقررہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور اس رقم سے اپنے مال میں اضافہ کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ جو ‘الربا’ کو ‘تجارتی سودے’ کے برابر قرار دیتے ہیں، انہیں ان لوگوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو شیطان کے اثر سے دیوانے نظر آتے ہیں۔ وہ مضحکہ خیز حلیے میں نظر ائیں گے اور عمل کریں گے۔

2:275 الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

وہ لوگ جو ‘الربا’ کھاتے ہیں، وہ کھڑے نہیں ہوتے مگر اس شخص کی طرح جو شیطان کے چھونے سے پاگل پن میں کھڑا ہوتا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ‘البیع’ (سودا) تو ‘الربا’ (اضافہ) کی ہی ایک مثال ہے۔ حالانکہ اللہ نے ‘البیع’ کو حلال کیا ہے اور ‘الربا’ کو حرام قرار دیا ہے، پس جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ (ربا کھانے سے) باز آ گیا، تو جو گزر چکا وہ اس کا ہے۔ اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے، اور جس نے دوبارہ وہی کیا (ربا کھانے کی طرف لوٹا)، تو وہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔


آیات کی منسوخی (نسخ) کا تصور:

یہ بدقسمتی ہے کہ ماضی کے بہت سے علماء القرآن کے امن پسند پیغام والی آیات کو لڑائی والی آیات کے ساتھ ہم آہنگ نہ کر سکے۔ وہ اپنی سمجھ بوجھ میں مطابقت اس لیے پیدا نہ کر سکے کیونکہ وہ جسمانی لڑائی اور غیر جسمانی (نظریاتی) لڑائی کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہے۔ چنانچہ انہوں نے جو کیا وہ یہ تھا کہ القرآن کی بہت سی آیات کو ‘منسوخ’ یعنی باطل قرار دے دیا۔ ان کی جسارت اور جرات کا تصور کریں کہ القرآن کی آیات کو باطل قرار دے دیا، جبکہ قرآن میں واضح طور پر موجود ہے کہ اس کی تمام آیات مستحکم ہیں اور خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے بھی ایسی کسی منسوخی کا کوئی اختیار یا اعلان موجود نہیں ہے۔۔

نفسانی جنگ، قتال اور جہاد کے موضوع پر سکالر محمد شیخ کے اردو لیکچرز کے لنکس: